hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 232

.

الطحاوي

232
Al Tahawi
۲۳۲ : أَخْبَرَنِیْ مَسْعُوْدُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، أَنَّ سَعْدًا کَانَ یُصَلِّی الصَّلَوَاتِ کُلَّہَا بِوُضُوْئٍ وَاحِدٍ ، مَا لَمْ یُحْدِثْ .حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ ، غَیْرَ أَنَّہٗ لَمْ یَذْکُرْ عِکْرِمَۃَ ، وَزَادَ وَکَانَ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلَاۃٍ ، وَیَتْلُو ( اِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلَاۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ).قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : وَلَیْسَ فِیْ ھٰذِہِ الْآیَۃِ - عِنْدَنَا - دَلِیْلٌ عَلَی وُجُوْبِ الْوُضُوْئِ لِکُلِّ صَلَاۃٍ ، لِأَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ قَوْلُہُ ذٰلِکَ عَلَی الْقِیَامِ وَہُمْ مُحْدِثُوْنَ .أَلَا تَرٰی أَنَّہُمْ قَدْ أَجْمَعُوا أَنَّ حُکْمَ الْمُسَافِرِ ہُوَ ھٰذَا ؟ أَوْ أَنَّ الْوُضُوْئَ لَا یَجِبُ عَلَیْہِ حَتّٰی یُحْدِثَ .فَلَمَّا ثَبَتَ أَنَّ ھٰذَا حُکْمُ الْمُسَافِرِ فِیْ ھٰذِہِ الْآیَۃِ وَقَدْ خُوطِبَ بِہَا کَمَا خُوطِبَ الْحَاضِرُ ، ثَبَتَ أَنَّ حُکْمَ الْحَاضِرِ فِیْہَا کَذٰلِکَ أَیْضًا .وَقَدْ قَالَ ابْنُ الْفَغْوَائِ : إِنَّہُمْ کَانُوْا اِذَا أَحْدَثُوا لَمْ یَتَکَلَّمُوْا حَتّٰی یَتَوَضَّئُوا ، فَنَزَلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ ( اِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلَاۃِ ) فَأَخْبَرَ أَنَّ ذٰلِکَ إِنَّمَا ہُوَ الْقِیَامُ إِلَی الصَّلَاۃِ بَعْدَ حَدَثٍ .
٢٣٢ : عبدالصمد کہتے ہیں کہ ہمیں شعبہ نے اپنی اسناد سے اسی طرح ذکر کیا البتہ انھوں نے سند میں عکرمہ کا ذکر نہیں کیا اور یہ اضافہ روایت میں فرمایا علی بن ابی طالب (رض) ہر نماز کے لیے وضو کرتے اور یہ آیت تلاوت فرماتے تھے : اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ [المائدۃ ] امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک تو اس آیت میں ہر نماز کے لیے وضو کے واجب ہونے کی کوئی دلیل نہیں پائی جاتی کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ یہ ارشاد نماز کی تیاری کے لیے اس حالت میں ہو جبکہ وہ بےوضو ہو۔ کیا اس بات پر تم سب فقہاء کو متفق نہیں پاتے کہ مسافر کے لیے یہی حکم ہے اور حدث کے بغیر اس پر وضو لازم نہیں پس جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ مسافر کا یہ حکم اس آیت سے ثابت ہے تو جس طرح اس سے مسافر کو خطاب کیا گیا اس طرح مقیم کو بھی خطاب کیا گیا تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ مقیم کا حکم بھی مسافر کی طرح ہے۔ ابن فغواء نے نقل کیا ہے کہ صحابہ کرام (رض) جب بےوضو ہوجاتے تو بغیر وضو کے کلام نہ کرتے۔ بس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : { اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ } [المائدۃ ] کہ یہ بتلا دیا کہ یہ حکم حدث کے بعد نماز کی طرف جانے کے وقت ہے۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ١؍٣٤ عبدالرزاق ١؍٥٨
طحاوی (رح) کا ارشاد :
اس کا دوسرا حصہ خلاف نظر آتا ہے تو اس کا جواب دے رہے ہیں نمبر ١: کہ آیت میں وجوب وضو لکل صلوۃ کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ یہ بات جائز ہے کہ اس سے وہ قیام مراد لیا جائے جو حالت حدث والا ہو کیا تم اس بات کو نہیں دیکھتے کہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ مسافر کا بھی یہی حکم ہے یا اس پر بھی وضو اسی وقت واجب ہے جب وہ حالت حدث میں ہو جب یہ حکم مسافر کا ثابت ہوگیا تو اس کا مخاطب مسافر کی طرح مقیم بھی ہے۔ نمبر ٢: عمرو بن الفغواء نے تو نقل کیا کہ وہ لوگ جب بےوضو ہوجاتے تو اس وقت تک گفتگو نہ کرتے جب تک وضو نہ کرلیتے پس یہ آیت نازل ہوئی : اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصّلٰوۃِ [المائدۃ : ٦] اور ان کو بتلایا کہ یہ وضو اس وقت ضروری ہے جبکہ حدث کے بعد نماز کی طرف جانے کا ارادہ ہو جیسا باب الحیض میں آئے گا۔ نمبر ٣: اس روایت کا ایک جواب اس روایت سے ہے جس میں علی (رض) کا بیان کنت رجلاً مزائً تو اس عارضہ کی وجہ سے آپ ہر نماز کے ساتھ وضو کرتے نہ کہ ہر نماز کے لیے نیا وضو فرض ہے۔
مزید تین آثار ایک وضو سے تمام نمازیں پڑھنے سے متعلق پیش کر رہے ہیں۔