hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2331

.

الطحاوي

2331
Al Tahawi
۲۳۳۱: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ وَابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَا : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ‘ عَنْ مُوْسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ‘ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقْرَأُ فِی الْأَضْحٰی وَالْفِطْرِ فِی الْأُوْلٰی بِ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی وَفِی الثَّانِیَۃِ ہَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ) .
٢٣٣١: عمرو بن عطاء نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدالفطر اور قربان کی پہلی رکعت میں سورة الاعلی اور دوسری میں الغاشیہ تلاوت فرماتے۔
: ابن ماجہ فی اقامہ باب قراۃ العیدین ٢١٨٣۔
خلاصہ الزام : کیا بعض نمازوں کی کچھ سورتیں مسنون ہیں۔
نمبر 1: امام شافعی ‘ احمد ‘ مالک (رح) کے ہاں بعض سورتیں مسنون ہیں انہی کے پڑھنے سے سنت ادا ہوگی۔
نمبر 2: احناف کے ہاں یہ سورتیں اور ان کے علاوہ بھی مسنون ہے کسی سورة کی تخصیص مکروہ تنزیہی ہے۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلیل : کہ بعض خاص نمازوں میں خاص سورتیں مسنون ہیں ان کے بغیر سنت ادا نہ ہوگی دلیل یہ ہے۔
عمرو بن عطاء نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدالفطر اور قربان کی پہلی رکعت میں سورة الاعلی اور دوسری میں الغاشیہ تلاوت فرماتے۔