hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2343

.

الطحاوي

2343
Al Tahawi
۲۳۴۳: .حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِیْلَ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ مِخْوَلِ بْنِ رَاشِدٍ‘ عَنْ مُسْلِمِ ڑ الْبَطِیْنِ‘ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَلَمَّا جَائَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ أَنَّہٗ قَرَأَ فِی الْعِیْدَیْنِ وَالْجُمُعَۃِ‘ غَیْرَ مَا جَائَ عَنْہُ فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ لَمْ یَجُزْ أَنْ یُحْمَلَ ذٰلِکَ عَلَی التَّضَادِّ وَالتَّکَاذُبِ .وَلٰـکِنَّا نَحْمِلُہُ عَلَی لْاِتِّفَاقِ وَالتَّصَادُقِ‘ فَنَجْعَلُ ذٰلِکَ کُلَّہٗ، قَدْ کَانَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ بِھٰذَا مَرَّۃً‘ وَبِھٰذَا مَرَّۃً‘ فَحَکٰی عَنْہُ کُلُّ فَرِیْقٍ مِنَ الْفَرِیْقَیْنِ مَا حَضَرَہُ مِنْہُ .فَفِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنْ لَا تَوْقِیْتَ لِلْقِرَائَ ۃِ فِیْ ذٰلِکَ‘ وَأَنَّ لِلْاِمَامِ أَنْ یَقْرَأَ فِیْ ذٰلِکَ مَعَ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ أَیَّ الْقُرْآنِ شَائَ .وَکَذٰلِکَ مَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا أَنَّہٗ کَانَ یَقْرَأُ فِیْ ذٰلِکَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ .
٢٣٤٣: سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایات وارد ہوئی ہیں کہ آپ نے عیدین اور جمعہ کی نمازوں میں اس کے علاوہ بھی قراءت کی ہے ‘ البتہ وہ پہلے آثار جن میں عدم جواز معلوم ہوتا ہے تو اس کو بجائے اس کے کہ ہم تضاد اور ایک دوسرے کی روایت کی تکذیب پر محمول کریں ہم انھیں ایک دوسرے کی تصدیق پر محمول کریں گے اور تمام کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عمل قرار دیں گے اور وہ اس طرح کہ کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پڑھا اور کبھی دوسری سورتوں کو پڑھا۔ روایت میں جو موجود تھے انھوں نے اپنا مشاہدہ نقل کردیا اور اس میں اس بات کا ثبوت مل گیا کہ کسی نماز کے لیے کوئی قراءت مقرر نہیں ہے اور امام کو اختیار ہے کہ فاتحۃ الکتاب کے ساتھ قرآن مجید کا جونسا حصہ بھی پڑھے درست ہے اور اسی طرح وہ جو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں یہ قراءت کرتے تھے۔
تخریج : مسلم فی الجمعہ روایت نمبر ٦٤۔
حاصل روایات : جمعہ و عیدین میں ان سورتوں کے علاوہ دیگر سورتوں کو بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلاوت فرمایا یہ تضاد پر محمول کرنا مناسب نہیں اس لیے ہم ان روایات میں اور فصل اول کی روایات میں موافقت پیدا کرتے ہیں ہم عرض کرتے ہیں کہ یہ تمام سورتیں آپ نے تلاوت فرمائیں کبھی وہ اور کبھی وہ تو ہر صحابی نے وہ بیان کی جس نماز میں وہ موجود تھے۔ پس اس میں یہ ثبوت مل گیا کہ اس میں قراءت کی توقیت نہیں امام کو فاتحہ الکتاب کے ساتھ قرآن کے جس حصہ سے چاہے پڑھنے کی اجازت ہے۔
مزید روایات تائید کے لیے ملاحظہ فرمائیں۔