۲۳۶۷: حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ شِہَابٍ‘ عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی‘ عَنِ الْعَوْفِیِّ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ قَالَ : (صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلَیْسَ بَعْدَہَا شَیْئٌ ‘ وَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثَلاَثًا وَبَعْدَہَا رَکْعَتَیْنِ‘ وَقَالَ : ہِیَ وِتْرُ النَّہَارِ‘ وَلَا تَنْقُصُ فِیْ سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ‘ وَصَلَّی الْعِشَائَ أَرْبَعًا‘ وَصَلّٰی بَعْدَہَا رَکْعَتَیْنِ‘ قَالَ : وَصَلَّی فِی السَّفَرِ الظُّہْرَ رَکْعَتَیْنِ‘ وَصَلّٰی بَعْدَہَا رَکْعَتَیْنِ‘ وَصَلَّی الْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ‘ وَلَیْسَ بَعْدَہَا شَیْئٌ ‘ وَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثَلاَثًا وَبَعْدَہَا رَکْعَتَیْنِ‘ وَصَلَّی الْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ‘ وَبَعْدَہَا رَکْعَتَیْنِ) .
٢٣٦٧: عوفی نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چار رکعت نماز ادا کی اور ان کے بعد کوئی چیز نہ تھی اور مغرب کی تین رکعت ادا کیں اور ان کے بعد دو رکعت پڑھیں اور کہا یہ دن کے وتر ہیں جو سفر و حضر میں کم نہیں ہوتے اور عشاء کی نماز چار رکعت ادا کی اور اس کے بعد دو رکعت پڑھیں اور آپ نے سفر میں ظہر دو رکعت اور اس کے بعد دو رکعت ادا کیں اور عصر کی نماز دو رکعت ادا کی اور اس کی بعد کوئی نماز نہ پڑھی (نفل) اور مغرب کی نماز تین رکعت ادا کی اور اس کے بعد دو رکعت ادا کی اور عشاء دو رکعت اور اس کے بعد دو رکعت ادا فرمائیں۔
تخریج : ترمذی فی ابواب السفر باب ٤١‘ نمبر ٥٥٢۔