۲۴۰۱: حَدَّثَنَا رَبِیْعُ ڑ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ‘ قَالَ : ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیْلَ‘ قَالَ : ثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ‘ قَالَ : سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنِ التَّطَوُّعِ فِی السَّفَرِ .فَقَالَ : وَمَا یَمْنَعُک؟ فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ : أَنَا أُحَدِّثُک‘ أَنَا سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنْ ھٰذَا فَقَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا : قَدْ فُرِضَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّلَاۃُ فِی الْحَضَرِ أَرْبَعًا‘ وَفِی السَّفَرِ رَکْعَتَیْنِ‘ فَکَمَا یُتَطَوَّعُ ہٰہُنَا قَبْلَہَا وَمِنْ بَعْدِہَا‘ فَکَذٰلِکَ یُصَلَّی فِی السَّفَرِ قَبْلَہَا وَبَعْدَہَا .
٢٤٠١: اسامہ بن زید نے کہا میں نے طاؤس سے سفر میں نوافل کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا تمہیں پڑھنے سے کیا رکاوٹ ہے ؟ حسن بن مسلم کہنے لگے میں تمہیں بتلاتا ہوں میں نے طاوس سے اس سلسلہ میں سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حضر میں چار رکعت مقرر کی گئیں اور سفر میں دو رکعت مقرر کی گئیں پس جو نفل نماز اس سے پہلے اور بعد یہاں پڑھتا ہے وہ اسی طرح سفر میں ادا کرے گا۔
تخریج : بیہقی ٣؍٢٢٥۔