۲۴۱۰: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنُ مَیْمُوْنٍ‘ قَالَ : ثَنَا الْوَلِیْدُ‘ عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ‘ عَنْ یَحْیَی ؛ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ قِلَابَۃَ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبُوْ أُمَیَّۃَ ؛ أَوْ عَنْ رَجُلٍ‘ عَنْ أَبِیْ أُمَیَّۃَ‘ قَالَ : (قَدِمْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ ؛ فَقَالَ : أَلَا تَنْتَظِرُ الْغَدَا یَا أَبَا أُمَیَّۃَ؟ فَقُلْتُ : إِنِّیْ صَائِمٌ ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہٗ) .فَھٰذِہِ الْآثَارُ الَّتِیْ رَوَیْنَاہَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَدُلُّ عَلٰی أَنَّ فَرْضَ الْمُسَافِرِ رَکْعَتَانِ .وَأَنَّہٗ فِیْ رَکْعَتَیْہِ کَالْمُقِیْمِ فِیْ أَرْبَعَۃٍ .فَکَمَا لَیْسَ لِلْمُقِیْمِ أَنْ یَزِیْدَ فِیْ صَلَاتِہِ عَلٰی أَرْبَعَۃٍ شَیْئًا‘ فَکَذٰلِکَ لَیْسَ لِلْمُسَافِرِ أَنْ یَزِیْدَ فِیْ صَلَاتِہِ عَلٰی رَکْعَتَیْنِ شَیْئًا .وَکَانَ النَّظَرُ عِنْدَنَا فِیْ ذٰلِکَ أَنَّا رَأَیْنَا الْفُرُوْضَ الْمُجْتَمَعَ عَلَیْہَا‘ لَا بُدَّ لِمَنْ ہِیَ عَلَیْہِ مِنْ أَنْ یَأْتِیَ بِہَا ؛ وَلَا یَکُوْنُ لَہٗ خِیَارٌ فِیْ أَنْ لَا یَأْتِیَ بِمَا عَلَیْہِ مِنْہَا .وَکَانَ مَا أُجْمِعَ عَلَیْہِ أَنَّ لِلرَّجُلِ أَنْ یَأْتِیَ بِہٖ إِنْ شَائَ ؛ وَإِنْ شَائَ لَمْ یَأْتِ بِہٖ، فَہُوَ التَّطَوُّعُ ؛ إِنْ شَائَ فَعَلَہُ ؛ وَإِنْ شَائَ تَرَکَہُ .فَھٰذِہِ ہِیَ صِفَۃُ التَّطَوُّعِ‘ وَمَا لَا بُدَّ مِنَ الْاِتْیَانِ بِہٖ، فَہُوَ الْفَرْضُ‘ وَکَانَتْ الرَّکْعَتَانِ لَا بُدَّ مِنَ الْمَجِیْئِ بِہِمَا وَمَا بَعْدَہُمَا فَفِیْہِ اخْتِلَافٌ .فَقَوْمٌ یَقُوْلُوْنَ : لَا یَنْبَغِیْ أَنْ یُؤْتَیْ بِہٖ، وَقَوْمٌ یَقُوْلُوْنَ لِلْمُسَافِرِ أَنْ یَجِیْئَ بِہٖ إِنْ شَائَ ‘ وَلَہٗ أَنْ لَا یَجِیْئَ بِہٖ .فَالرَّکْعَتَانِ مَوْصُوْفَتَانِ بِصِفَۃِ الْفَرْضِ‘ فَہُمَا فَرِیْضَۃٌ‘ وَمَا بَعْدَ الرَّکْعَتَیْنِ مَوْصُوْفٌ بِصِفَۃِ التَّطَوُّعِ‘ فَہُوَ تَطَوُّعٌ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ الْمُسَافِرَ فَرْضُہُ رَکْعَتَانِ‘ وَکَانَ الْفَرْضُ عَلَی الْمُقِیْمِ أَرْبَعًا فِیْمَا یَکُوْنُ فَرْضُہُ عَلَی الْمُسَافِرِ رَکْعَتَیْنِ .فَکَمَا لَا یَنْبَغِیْ لِلْمُقِیْمِ أَنْ یُصَلِّیَ بَعْدَ الْأَرْبَعِ شَیْئًا مِنْ غَیْرِ تَسْلِیْمٍ‘ فَکَذٰلِکَ لَا یَنْبَغِیْ لِلْمُسَافِرِ أَنْ یُصَلِّیَ بَعْدَ الرَّکْعَتَیْنِ شَیْئًا بِغَیْرِ تَسْلِیْمٍ .فَھٰذَا ہُوَ النَّظْرُ- عِنْدَنَا - فِیْ ھٰذَا الْبَابِ وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی. فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ رُوِیَ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُمْ کَانُوْا یُتِمُّوْنَ‘ وَذَکَرَ فِیْ ذٰلِکَ مَا قَدْ فَعَلَہٗ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِ مِنًی .
٢٤١٠: ابو قلابہ کہتے ہیں کہ مجھے ابو امیہ نے یا کسی آدمی نے ابو امیہ سے بیان کیا کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں سفر سے واپس آیا تو آپ نے فرمایا اے ابو امیہ ! کیا تم صبح کے کھانے کا انتظار نہ کرو گے۔ میں نے عرض کیا میں روزے سے ہوں پھر اسی طرح روایت نقل کی۔ یہ وہ آثار ہیں جن کو ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے یہ تمام اس پر دلالت کرتے ہیں کہ مسافر کے لیے فرض نماز دو رکعت ہے اور وہ اپنی ان دو رکعتوں میں اس مقیم کی طرح ہے جو اپنی چار رکعتوں سے ادائیگی کرنے والا ہو۔ پس جس طرح مقیم کو چار رکعت سے اضافہ اپنی نماز میں درست نہیں ‘ اسی طرح مسافر کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی نماز میں دو رکعت سے اضافہ کرے۔ ہمارے نزدیک اس میں نظر و فکر کا تقاضا یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ فرض نماز کو مکمل پڑھنا تمام کے ہاں متفق علیہ ہے اس میں سے کسی چیز کا چھوڑنا اس شخص کے لیے جائز نہیں جس پر لازم ہو ‘ اس پر سب کا اتفاق ہے اور اس کو مکمل ادا کرنا بہرحال ضروری ہے اور اس پر بھی اتفاق ہے جس چیز کو کرنے یا نہ کرنے میں اختیار ہے وہ نوافل ہیں اور نوافل کا یہی حکم ہے اور جس کا کرنا ضروری ہے وہ فرض ہے اور دو رکعت کا ادا کرنا تو ضروری ہے اور دو کے بعد والی رکعات میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے ان کے ادا کرنے کو ضروری قرار دیا اور دوسروں نے کہا کہ مسافر کے لیے ان دو کی ادائیگی مرضی پر موقوف ہے خواہ ادا کرے یا ادا نہ کرے۔ تو گویا دو رکعت میں فرض کی صفت پائی جاتی ہے اور بعد والی دو رکعت نوافل والی حالت رکھتی ہیں۔ پس وہ نفل ہیں۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مسافر کا اصل فرض دو رکعت ہے اور مقیم کا فرض اس نماز میں چار رکعت ‘ جس میں مسافر کے لیے دو رکعت ہیں۔ پس جس طرح مقیم کے لیے جائز نہیں کہ ایک سلام سے چار رکعت پر کچھ اضافہ کرے بالکل اسی طرح مسافر کے لیے جائز نہیں ہے کہ دو رکعت کے بعد سلام کے بغیر کسی چیز کا اضافہ کرے۔ ہمارے نزدیک اس باب میں نظر و فکر کا تقاضا یہی ہے اور یہی قول امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا ہے۔ بالفرض اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ وہ نماز تکمیل کرتے تھے اور اس کے ثبوت میں منیٰ میں کیا جانے والا حضرت عثمان (رض) کا عمل پیش کرلے۔
تخریج : بیہقی ٤؍٣٩٠۔
حاصل کلام :
یہ آثار جن کو ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہم نے نقل کیا ہے یہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مسافر کا فریضہ دو رکعت ہیں اور وہ اپنی دو رکعتوں کے حق میں مقیم کی طرح ہے۔ پس جس طرح مقیم کو اپنی نماز میں چار پر اضافہ جائز نہیں اسی طرح مسافر کو اپنی دو رکعت پر اضافہ جائز نہیں ہے یہ روایات کے لحاظ سے ذکر کیا گیا ہے۔
نظر طحاوی (رح) :
جب ہم فرائض پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ان کا کرنا ضروری ہے کسی کو ان میں کرنے نہ کرنے کا اختیار نہیں ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ نوافل کو کرنا نہ کرنا درست ہے یہ نوافل کی صفت ہے اور جس کا بہرصورت کرنا ضروری ہے وہ فرائض ہیں دو رکعتوں کا ادا کرنا تو تمام کے نزدیک لازم ہے اور ان کے علاوہ میں اختلاف ہے کچھ لوگ ان کے کرنے کو لازم قرار دیتے ہیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مسافر کو کرنے نہ کرنے کا اختیار ہے ان دو رکعتوں کی صفت تو فرض ہونا ہے اور وہ دونوں فرض ہیں اور بعد والی رکعتیں تطوع کے حکم میں ہیں۔
پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی مسافر کا فرض دو رکعت اور مقیم پر فرض چار رکعت جہاں مسافر پر دو رکعت ہیں پس جس طرح مقیم کو چار کے بعد بلاتسلیم اور کوئی چیز ان سے ملانی درست نہیں پس اسی طرح مسافر کو بھی مناسب نہیں کہ وہ دو رکعت کے بعد بغیر سلام کے اور کچھ پڑھے اور ملائے۔ نظر کا یہ تقاضا ہے۔
اور یہی ہمارے امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف و محمد (رح) کا قول ہے۔
ایک سوال :
اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک جماعت سے چار پڑھنا منقول ہے اور ان میں منجملہ عثمان (رض) ہیں جنہوں نے منیٰ میں دو رکعت کی بجائے چار رکعت ادا کی۔ روایات اتمام آگے ملاحظہ ہوں۔