۲۴۲۱: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ‘ عَنْ عُمَارَۃَ ابْنِ عُمَیْرٍ‘ عَنِ الْأَسْوَدِ‘ قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ لَا یَرَی التَّقْصِیْرَ إِلَّا لِحَاجٍّ أَوْ مُعْتَمِرٍ أَوْ مُجَاہِدٍ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ مَذْہَبَ حُذَیْفَۃَ‘ کَانَ کَذٰلِکَ فَأَمَرَ التَّیْمِیَّ اِذْ کَانَ یُرِیْدُ سَفَرًا لَا لِحَجٍّ‘ وَلَا لِجِہَادٍ‘ أَنْ لَا یَقْصُرَ الصَّلَاۃَ‘ فَانْتَہٰی أَنْ یَّکُوْنَ فِیْ حَدِیْثِہٖ ذٰلِکَ حُجَّۃٌ لِمَنْ یَرَی لِلْمُسَافِرِ إِتْمَامَ الصَّلَاۃِ فِی السَّفَرِ .وَأَمَّا مَا رَوَیْنَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ ذٰلِکَ‘ فَإِنَّ حَدِیْثَ حَیَّانَ ہُوَ عَلٰی أَنَّہٗ سَأَلَہُ وَہُوَ فِیْ مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ‘ فَقَالَ لَہٗ : إِنِّیْ مِنْ بَعْثِ أَہْلِ الْعِرَاقِ فَکَیْفَ أُصَلِّیْ؟ فَأَجَابَہُ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ فَقَالَ : إِنْ صَلَّیْتُ أَرْبَعًا فَأَنْتَ فِیْ مِصْرٍ‘ وَإِنْ صَلَّیْتُ اثْنَتَیْنِ فَأَنْتَ مُسَافِرٌ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ مَذْہَبَہُ کَانَ فِیْ صَلَاۃِ الْمُسَافِرِ فِی الْأَمْصَارِ ھٰکَذَا .وَقَدْ رَوٰی عَنْہُ صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ‘ حِیْنَ سَأَلَہُ عَنِ الصَّلَاۃِ فِی السَّفَرِ فَکَانَ جَوَابُہٗ لَہٗ أَنْ قَالَ : ہِیَ رَکْعَتَانِ‘ مَنْ خَالَفَ السُّنَّۃَ کَفَرَ .فَذٰلِکَ‘ عَلَی الصَّلَاۃِ فِیْ غَیْرِ الْأَمْصَارِ‘ حَتّٰی لَا یَتَضَادَّ ذٰلِکَ‘ وَمَا رَوٰی حَیَّانُ .فَیَکُوْنُ حَدِیْثُ حَیَّانَ عَلٰی صَلَاۃِ الْمُسَافِرِ فِی الْأَمْصَارِ‘ وَحَدِیْثُ صَفْوَانَ عَلٰی صَلَاتِہٖ فِیْ غَیْرِ الْأَمْصَارِ‘ وَسَنُبَیِّنُ الْحُجَّۃَ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ فِیْ آخِرِہٖ إِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَأَمَّا مَا رُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فِیْ ذٰلِکَ ۔
٢٤٢١ : اسود سے مروی ہے کہ ابن مسعود (رض) قصر کو صرف حاجی ‘ معتمر اور مجاہد کے ساتھ خاص سمجھتے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت حذیفہ (رض) کا مذہب اس طرح ہو اسی لیے وہ تیمی کو فرماتے جب حج و جہاد کے علاوہ سفر کرنے لگتے کہ نماز کو قصر نہ کرنا۔ پس ان کی روایت میں ان لوگوں کی دلیل نہ رہی جو مطلق مسافر کے لیے نماز کو پورا پڑھنے کا حکم ثابت کرتے ہیں۔ رہی وہ روایت جو اس سلسلہ میں ابن عمر (رض) سے آئی ہے۔ پس روایت حیان (رح) میں اس طرح ہے کہ میں نے ان سے ایک شہر میں سوال کیا کہ میں لشکر کے عراقی دستہ سے ہوں تو میں نماز کس طرح ادا کروں۔ تو انھوں نے فرمایا اگر تم چار پڑھو تو تم شہر میں ہو اور اگر تم دو پڑھو تو پھر تم مسافر ہو۔ اس سے یہ دلالت ملی کہ ان کا مذہب مسافر کی نماز کے سلسلہ میں شہر میں اسی طرح ہے اور صفوان بن محرز کی روایت میں جبکہ اس نے ابن عمر (رض) سے نماز سفر کے متعلق سوال کیا تو فرمایا وہ دو رکعت ہیں جس نے سنت کی خلاف ورزی کی تو اس نے ناشکری کی۔ یہ شہروں کے علاوہ ان کے ہاں نماز کا حکم ہے۔ یہ تاویل اس لیے کی ہے تاکہ یہ روایت حیان والی روایت سے متضاد و متصادم نہ ہو۔ پس روایت حیان کی روایت شہروں میں مسافر کی نماز سے متعلق ہے اور صفوان کی روایت شہروں کے علاوہ مسافر کی نماز سے متعلق ہے۔ ہم اس باب میں عنقریب دلیل ذکر کریں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی روایت یہ ہے۔