۲۴۲۳: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ أَبِیْہٖ‘ قَالَ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ عَلَی الرَّاحِلَۃِ قَبْلَ أَیِّ وَجْہٍ تَوَجَّہَ‘ وَیُوْتِرُ عَلَیْہَا‘ غَیْرَ أَنَّہٗ لَا یُصَلِّیْ عَلَیْہَا الْمَکْتُوْبَۃَ) .
٢٤٢٣: سالم بن عبداللہ نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے خواہ سواری جس طرف بھی جائے البتہ سواری پر فرض نماز نہ پڑھتے تھے۔
تخریج : بخاری فی تقصیرالصلاۃ باب ٩‘ مسلم فی المسافرین نمبر ٣٩‘ ابو داؤد فی السفر باب ٨‘ نمبر ١٢٣٤۔
خلاصۃ الزام :
نمبر 1: امام مالک و شافعی و احمد (رح) کے ہاں وتر چونکہ نفل ہیں اس لیے سواری پر اشارے سے ادا کرسکتے ہیں۔
نمبر 2: احناف کے ہاں وتر واجب ہیں اس لیے سواری پر ادا نہیں کئے جاسکتے۔
مؤقف فریق اوّل اور دلائل :
وتر چونکہ نفل ہیں اس لیے سواری اور زمین پر دونوں طرح درست ہیں۔ روایات یہ ہیں