hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2430

.

الطحاوي

2430
Al Tahawi
۲۴۳۰: حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا مَکِّیُّ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِیْ زِیَادٍ‘ عَنْ مُجَاہِدٍ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا نَحْوَہٗ ۔قَالُوْا : فَفِیْمَا رَوَیْنَا‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَفِیْمَا رَوَیْنَاہٗ عَنْہُ‘ مِنْ فِعْلِہٖ، مَا یُخَالِفُ مَا رَوَاہُ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لِأَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی أَنَّہُمْ لَا یُعَارِضُوْنَ الزُّہْرِیَّ بِحَنْظَلَۃَ .وَأَمَّا مَا رَوَاہٗ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مِنْ وِتْرِہِ عَلَی الْأَرْضِ‘ فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ فَعَلَ ذٰلِکَ‘ وَلَہٗ أَنْ یُوْتِرَ عَلَی الرَّاحِلَۃِ یُصَلِّیْ تَطَوُّعًا عَلَی الْأَرْضِ‘ وَلَہٗ أَنْ یُصَلِّیَہٗ عَلَی الرَّاحِلَۃِ‘ فَصَلَاتُہُ إِیَّاہُ عَلَی الرَّاحِلَۃِ‘ تَدُلُّ عَلٰی أَنَّ لَہٗ أَنْ یُصَلِّیَہٗ عَلَی الرَّاحِلَۃِ‘ وَصَلَاتُہُ إِیَّاہُ عَلَی الْأَرْضِ‘ لَا تَنْفِیْ أَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ أَنْ یُصَلِّیَہٗ عَلَی الرَّاحِلَۃِ .وَقَدْ حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ۔
٢٤٣٠: مجاہد نے حضرت ابن عمر (رض) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ چنانچہ ہم نے حضرت ابن عمر (رض) کی وساطت سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو بیان کیا اور ان کو جو فعل آثار میں نقل کیا وہ پہلے قول والے علماء کے خلاف ہے۔ اوّل قول والوں کے ہاں دلیل یہ ہے کہ وہ روایت زہری (رح) کا روایت حنظلہ سے معارضہ نہیں کرتے۔ رہا ابن عمر (رض) کا عمل کہ انھوں نے زمین پر وتر ادا کیے تو اس کی تاویل اس طرح ہوسکتی ہے کہ نوافل کو جس طرح سواری پر پڑھنا درست ہے اسی طرح زمین پر پڑھنا بھی جائز ہے وتر کا بھی یہی حال ہے کہ ان کو سواری پر ادا کرنا دلالت کرتا ہے کہ ان کی ادائیگی پر بھی درست ہے اور زمین پر ان کی نماز وتر سواری والی نماز کے منافی نہیں ہے۔ روایت ملاحظہ ہو۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ٢؍٩٧۔
حاصل روایات : حضرت ابن عمر (رض) وتروں کو اونٹ سے نیچے اتر کر اہتمام سے ادا کرتے تھے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے ہاں سواری پر وتر درست نہ تھے جو پہلے نقل ہوا وہ پہلے کا ہے۔
اشکال فریق اوّل :
ہم روایت میں حنظلہ کا زہری سے تقابل نہیں کرتے مگر یہ کہنے کا تو حق رکھتے ہیں کہ نوافل کے متعلق آپ کے ہاں بھی سواری پر اور نیچے اتر کر ہر دو طرح درست ہے اسی طرح جہاں انھوں نے سواری پر وتر پڑھے تو اس میں اس کا جواز سواری پر ثابت کیا اور زمین پر اتر کر پڑھے تو اس کا درست ہونا ظاہر کیا زمین پر پڑھنا اس کے ہرگز منافی نہیں کہ وہ سواری پر وتروں کو درست قرار نہ دیتے تھے اور اس کا ثبوت یہ روایت دے رہی ہے۔ روایت ملاحظہ ہو۔