۲۴۳۷: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنُ مُحْرِزٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ زَمْعَۃَ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ عَنْ سَعِیْدٍ‘ وَأَبِیْ سَلَمَۃَ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (اِذَا جَائَ أَحَدَکُمُ الشَّیْطَانُ‘ فَخَلَطَ عَلَیْہِ صَلَاتَہٗ، فَلاَ یَدْرِیْ کَمْ صَلّٰی؟ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ) .
٢٤٣٧: ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے تو اس کی نماز میں خلل ڈالتا ہے پس اس کو یہ خبر نہیں رہتی کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے پس (اس وقت وہ) دو سجدے بیٹھ کر کرے۔
تخریج : بخاری فی السہو باب ٧‘ مسلم فی المساجد نمبر ٨٢‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٩٢‘ نمبر ١٠٣٠‘ ترمذی فی المواقیت باب ١٧٤‘ نمبر ٣٩٧‘ نسائی فی السہو باب ٢٥‘ مالک فی السہو نمبر ١‘ مسند احمد ٢؍٢٤١‘
خلاصہ الزام :
نمبر 1: اگر کسی کو اپنی نماز کی تین یا چار رکعت میں شک ہوجائے تو امام حسن بصری وعطاء رحمہما اللہ کے ہاں صرف سجدہ سہو سے نماز پوری کرلے۔
نمبر 2: ائمہ ثلاثہ کے ہاں اقل پر عمل کرے اور سجدہ سہو کرے تو نماز درست ہوجائے گی۔
نمبر 3: احناف کے ہاں اقل کی بجائے ظن غالب پر عمل کرے اور اگر ظن برابر ہو تو اقل پر عمل کرے اور سجدہ بھی کرے تب نماز ہوگی۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلائل : جب نماز میں شک ہو تو سجدہ سہو کرلینے سے نماز ہوجائے گی۔ دلائل یہ ہیں۔
٢٤٣٧: ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے تو اس کی نماز میں خلل ڈالتا ہے پس اس کو یہ خبر نہیں رہتی کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے پس (اس وقت وہ) دو سجدے بیٹھ کر کرے۔
تخریج : بخاری فی السہو باب ٧‘ مسلم فی المساجد نمبر ٨٢‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٩٢‘ نمبر ١٠٣٠‘ ترمذی فی المواقیت باب ١٧٤‘ نمبر ٣٩٧‘ نسائی فی السہو باب ٢٥‘ مالک فی السہو نمبر ١‘ مسند احمد ٢؍٢٤١‘ ٢٧٣‘ بلفظ فلیس علیہ صلاتہ فلیلبس علیہ۔