۲۴۴۴: حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ‘ عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیْدٍ‘ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ہُرْمُزَ الْأَعْرَجِ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (إِنَّ الشَّیْطَانَ اِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاۃِ وَلَّی وَلَہُ ضُرَاطٌ فَإِذَا أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ یَلْتَمِسُ الْخِلَاطَ فَإِذَا أَتَیْ أَحَدَکُمْ مَنَّاہُ وَذَکَّرَہُ مِنْ حَاجَتِہٖ مَا لَمْ یَکُنْ یَذْکُرُ حَتّٰی لَا یَدْرِیَ کَمْ صَلَّی‘ فَإِذَا وَجَدَ ذٰلِکَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ) .
٢٤٤٤: عبدالرحمن بن ہرمز الاعرج نے ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے کہ شیطان جب نماز کی اذان دی جائے تو پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور (ڈر سے) اس کے شرمگاہ سے ہوا نکلتی ہے پھر جب جماعت کھڑی ہوجاتی ہے تو ملاوٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے جب تم میں سے کوئی نماز میں مصروف ہوجاتا ہے تو وہ اسے تمنائیں دلاتا ہے اور اس کی وہ ضروریات یاد دلاتا ہے جو یاد نہیں ہوتیں۔ اس کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ اس کو یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعت ادا کی ہیں جب تم ایسی صورت حال پاؤ تو بیٹھ کر دو سجدے (سہو کے) کرو۔