۲۴۵ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ عَائِشَ بْنِ أَنَسٍ قَالَ : (سَمِعْتُ عَلِیًّا عَلَی الْمِنْبَرِ یَقُوْلُ : کُنْتُ رَجُلًا مَذَّائً ؑفَأَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْیَیْتُ مِنْہُ ، لِأَنَّ ابْنَتَہٗ کَانَتْ تَحْتِی ، فَأَمَرْتُ عَمَّارًا فَسَأَلَہٗ فَقَالَ : یَکْفِیْ مِنْہُ الْوُضُوْئُ).قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : أَفَلَا تَرٰی أَنَّ عَلِیًّا لَمَّا ذَکَرَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا أَوْجَبَہُ عَلَیْہِ فِیْ ذٰلِکَ ، ذَکَرَ وُضُوْئَ الصَّلَاۃِ فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ مَا کَانَ سِوَی وُضُوْئِ الصِّلَائِ مِمَّا أَمَرَ بِہٖ، فَإِنَّمَا کَانَ ذٰلِکَ لِغَیْرِ الْمَعْنَی الَّذِیْ وَجَبَ لَہٗ وُضُوْئُ الصَّلَاۃِ .وَقَدْ رَوٰی سَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا قَدْ دَلَّ عَلٰی ھٰذَا أَیْضًا .
٢٤٥ : عائش بن انس کہتے ہیں میں نے حضرت علی (رض) کو منبر پر فرماتے سنا مجھے بہت مذی آتی تھی میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کا ارادہ کیا مگر مجھے حیاء مانع نبی کیونکہ آپ کی بیٹی میرے نکاح میں تھی تو میں نے عمار کو کہا (ان کے دریافت کرنے پر آپ نے فرمایا) مذی آنے پر وضو کافی ہے۔ امام طحاوی فرماتے ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ علی المرتضیٰ (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے فقط نماز کے وضو کو واجب قرار دیا۔ پس اس سے یہ بات خود ثابت ہوگئی کہ وضو کے علاوہ جس بات کا حکم دیا گیا وہ اس وجہ سے نہیں تھا جس سے مذی کی صورت میں وضو کو واجب فرمایا۔ چنانچہ سہل ابن حنیف (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو روایت کی ہے وہ اس بات کو واضح طور پر ثابت کرتی ہے۔
تخریج : بخاری فی الوضوء باب ٣٤‘ مسلم فی الحیض روایت ١٧
حاصل روایات : نوطرق سے روایت علی (رض) کو پیش کیا گیا اور اس سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوگئی کہ مذی سے فقط وضو ہے۔ اور ایک روایت میں واضح طور پر ذکر کا دھونا بھی مذکور ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خصیتین کا دھونا لازم نہیں ہے اگر کہیں مذکور ہو تو وہ مذی کے منقطع کرنے کے طور پر ہے اور وضو سے وضو صلوۃ ہی مراد ہے۔
سائل کون ؟
حضرت علی (رض) نے حضرت مقداد اور عمار (رض) کو کہا ان میں سے کسی نے سوال کیا وکیل کا فعل مؤکل کا شمار ہوتا ہے اس لیے بعض روایات میں حضرت علی مرتضیٰ (رض) نے اس کی نسبت اپنی طرف کردی۔ (ابن حجر (رح) )
امام طحاوی فرماتے ہیں ان روایات سے ثابت ہوا کہ نماز کے وضو کے علاوہ جس چیز کا حکم ان میں ملتا ہے وہ درجہ وجوب میں نہیں صرف وضو ہی واجب ہے اور ہماری اس بات کی تائید مندرجہ روایات کر رہی ہیں۔