۲۴۵۲: وَحَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ‘ قَالَ : أَنَا مَالِکٌ‘ عَنْ زَیْدٍ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ ، غَیْرَ أَنَّہٗ لَمْ یَذْکُرْ أَبَا سَعِیْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَھٰذِہِ الْآثَارُ تَزِیْدُ عَلَی الْآثَارِ الْأُوَلِ‘ لِأَنَّ ھٰذِہِ تُوْجِبُ الْبِنَائَ عَلَی الْأَقَلِّ‘ وَالسَّجْدَتَیْنِ بَعْدَ ذٰلِکَ‘ فَہِیَ أَوْلٰی مِنْہَا‘ لِأَنَّہَا قَدْ زَادَتْ عَلَیْہَا .وَقَالَ آخَرُوْنَ : الْحَکَمُ فِیْ ذٰلِکَ أَنْ یَّنْظُرَ الْمُصَلِّیْ إِلٰی أَکْبَرِ رَأْیِہِ فِیْ ذٰلِکَ‘ فَیَعْمَلُ عَلٰی ذٰلِکَ‘ ثُمَّ یَسْجُدُ سَجْدَتَی السَّہْوِ‘ بَعْدَ التَّسْلِیْمِ .وَإِنْ کَانَ لَا رَأْیْ لَہٗ فِیْ ذٰلِکَ‘ بَنٰی عَلَی الْأَقَلِّ‘ حَتّٰی یَعْلَمَ یَقِیْنًا‘ أَنَّہٗ قَدْ صَلّٰی مَا عَلَیْہِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ
٢٤٥٢: مالک نے زید سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے البتہ انھوں نے حضرت ابو سعید خدری (رض) کا تذکرہ نہیں کیا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ان روایات میں پہلی روایات سے اضافہ منقول ہے۔ کیونکہ یہ روایات کم سے کم پر بناء کر کے دو سجدات کو لازم کرتی ہیں۔ پس یہ روایات ان سے اولیٰ ہیں کیونکہ ان میں اضافہ ہے۔ دیگر علماء نے کہا اصل حکم اس کے متعلق یہ ہے کہ اس سلسلہ میں اپنی غالب رائے پر غور کر کے اس پر عمل پیرا ہو۔ پھر سہو کے دو سجدے سلام پھیرنے کے بعد کرلے اور اگر اس کی پختہ رائے نہ ہو تو پھر کم رکعات پر بناء کرلے تاکہ اسے یقین ہوجائے کہ اس نے اپنے کامل فرض کو ادا کردیا ہے۔ ان کی دلیل روایت ذیل ہے۔
حاصل روایات : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے بناء علی الاقل یعنی کم تعداد پر بناء کی جائے گی اور دو سجدے بھی ہوں گے یہ روایات پہلی روایات سے اولیٰ ہیں کیونکہ ان میں بناء علی الاقل کا تذکرہ زائد ہے اور ثقہ کا اضافہ درست ہے پس ان کی بجائے ان پر عمل کیا جائے گا۔
فریق ثالث کا مؤقف اور دلائل : نمازی اپنے غالب گمان کو دیکھے اور اس پر عمل کرے اور اگر غالب گمان نہ ہو تو تب بناء علی الاقل کرے اور پھر سلام کے بعد دو سجدے کرے۔ دلائل آگے ملاحظہ ہوں۔