hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2460

.

الطحاوي

2460
Al Tahawi
۲۴۶۰: حَدَّثَنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ‘ قَالَ : ثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ‘ عَنْ سُلَیْمَانَ الْیَشْکُرِیِّ‘ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ ڑالْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ قَالَ : فِی الْوَہْمِ یُتَحَرّٰی .قَالَ : قُلْتُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَدَلَّ مَا ذَکَرْنَا أَنَّ مَا رَوَاہُ أَبُوْ سَعِیْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا ہُوَ اِذَا کَانَ لَا یَدْرِیْ أَثَلاَثًا صَلّٰی أَمْ أَرْبَعًا؟ وَلَمْ یَکُنْ أَحَدُہُمَا أَغْلَبَ فِیْ قَلْبِہٖ مِنَ الْآخَرِ .وَأَمَّا اِذَا کَانَ أَحَدُہُمَا أَغْلَبَ فِیْ قَلْبِہٖ مِنَ الْآخَرِ‘ عَمِلَ عَلٰی ذٰلِکَ .فَقَدْ وَافَقَ مَا رُوِیَ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ لَمَّا جَمَعَ مَا رَوَاہٗ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَا أَجَابَ بِہٖ الَّذِیْ سَأَلَہٗ مِنْ بَعْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَہْلُ ھٰذِہِ الْمَقَالَۃِ الْأَخِیْرَۃِ‘ لَا مَا قَالَ مَنْ خَالَفَہُمْ .وَقَدْ رُوِیَ أَیْضًا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی التَّحَرِّیْ مِثْلَہٗ .
٢٤٦٠: سلیمان یشکری نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کی ہے کہ انھوں نے فرمایا وہ خیال میں تحری کرے اس نے پوچھا آپ نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے یہ بات کہی ہے انھوں نے جواب دیا جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے۔ اس روایت مذکورہ سے یہ دلالت مل گئی کہ حضرت ابو سعید (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس بات کو نقل کیا ہے وہ اس صورت میں ہے جبکہ اس کو معلوم نہ ہو کہ آیا اس نے تین پڑھی ہیں یا چار ؟ اور ان میں سے کوئی ایک بات اس کے دل میں دوسری سے غالب نہ ہو اور اگر ایک بات دوسری سے غالب ہو تو پھر اسی غالب پر عمل کرے جب ہم نے حضرت ابو سعید خدری (رض) کی اس روایت کو جو انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی اور جو بات انھوں نے خود ان سے سوال کرنے والوں کے جواب میں کہی اکٹھا کیا گیا تو اس دوسرے قول کے کہنے والوں کے موافق بات بن گئی ‘ ان کے مخالف قول کے موفق نہ بن سکی اور حضرت انس (رض) سے بھی تحری سے متعلق اسی قسم کی بات منقول ہے۔ ذیل میں ملاحظہ ہو۔
حاصل روایات : اس سے یہ ثابت ہوا کہ ابو سعید (رض) نے جو بات پہلے روایت کی ہے وہ اس وقت ہے جبکہ اس کو معلوم نہ ہو کہ تین رکعت پڑھی ہیں یا چار اور ان میں سے ایک کا دل میں غلبہ نہ ہو لیکن جب ایک کا ظن غالب ہو تو اس پر عمل کرے اس طرح ابو سعید (رض) کی روایت اور آپ سے کیا جانے والا استفسار اور اس کا جواب دونوں موافق ہوجاتے ہیں اور اس طرح فریق ثالث کی بات پختہ نظر آتی ہے البتہ دوسروں کے قول پر روایات کی موافقت نہیں ہوتی اور حضرت انس (رض) سے بھی تحری کے سلسلہ میں اس طرح کی روایت ہے جس کو ہم نقل کرتے ہیں۔