hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 247

.

الطحاوي

247
Al Tahawi
۲۴۷ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عُمَرَ قَالَ : أَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالَ : أَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ ، عَنْ أَبِیْ عُثْمَانَ النَّہْدِیُّ ، أَنَّ سُلَیْمَانَ بْنَ رَبِیْعَۃَ الْبَاہِلِیَّ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِیْ عُقَیْلٍ ، فَکَانَ یَأْتِیْہَا فَیُلَاعِبُہَا .فَسَأَلَ عَنْ ذٰلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ : اِذَا وَجَدْتُ الْمَائَ فَاغْسِلْ فَرْجَکَ وَأُنْثَیَیْکَ، وَتَوَضَّأْ وُضُوْئَ ک لِلصَّلَاۃِ .قِیْلَ لَہٗ : یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ وَجْہُ ذٰلِکَ أَیْضًا مَا صَرَفْنَا إِلَیْہِ وَجْہَ حَدِیْثِ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِمَّنْ بَعْدَہٗ ، مَا یُوَافِقُ ذٰلِکَ ۔
٢٤٧ سلیمان بن ربیعہ باہلی نے بنی عقیل کی ایک عورت سے نکاح کیا وہ اس کے ہاں جاتے اور ملاعبت کرتے (جس سے مذی خارج ہوتی تو انھوں نے) حضرت عمر (رض) سے سوال کیا کہ میں مذی کا پانی پاتا ہوں تو آپ نے فرمایا جب پانی پاؤتو اپنی شرمگاہ اور خصیتین کو دھولو اور پھر نماز والا وضو کرلو۔ اس کو یہ کہا جائے گا کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا وہی مطلب ہو جو ہم نے رافع بن خدیج کی روایت کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ صحابہ (رض) اور تابعین (رح) کی ایک جماعت اسی کے موافق کہتی ہے۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الطھارۃ ١؍٩١۔
جواب : اس روایت کا بھی وہی مطلب ہے جو حضرت رافع بن خدیج والی روایت کا بیان کیا گیا کہ شرمگاہ ا دھونا لازم تھا اور باقی خصیتین کا دھونا خروج مذی کو روکنے اور مزاکیر کے سکیڑنے کے لیے تھا۔ اور اس مفہوم کی موافقت صحابہ وتابعین کے مندرجہ اقوال سے پائی جاتی ہے۔