۲۴۸۶: قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ أَخْبَرَہُمْ‘ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْأَعْرَجِ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ ابْنَ بُحَیْنَۃَ حَدَّثَہٗ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ : (فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہٗ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ‘ کَبَّرَ فِیْ کُلِّ سَجْدَۃٍ وَہُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ یُّسَلِّمَ‘ أَوْ سَجَدَ بِہِمَا النَّاسُ مَعَہٗ، فَکَانَ مَا نَسِیَ مِنَ الْجُلُوْسِ) .
٢٤٨٦: عبدالرحمن اعرج نے بتلایا کہ عبداللہ ابن بحینہ نے مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح بیان کیا البتہ اس قدر فرق ہے فلما قضی صلاتہ سجد سجدتین کبر فی کل سجدہ وہو جالس قبل ان یسلم او سجد بھما الناس معہ فکان مانسیی من الجلوس کے الفاظ زائد ہیں کہ جب انھوں نے اپنی نماز مکمل کی تو دو سجدے کئے ہر سجدہ میں بیٹھ کر تکبیر کہی اور سلام سے پہلے سجدے کئے یا لوگوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا پس یہ وہ جلسہ ہوگیا جو آپ بھول گئے تھے۔
تخریج : ترمذی ١؍٨٩‘ کتاب الصلاۃ۔