۲۴۸۹: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ بَشَّارٍ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ قَالَ : ثَنَا الزُّہْرِیُّ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ ہُرْمُزَ الْأَعْرَجُ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ‘ قَالَ : (صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃً‘ نَظُنُّ أَنَّہَا الْعَصْرُ‘ فَقَامَ فِی الثَّانِیَۃِ وَلَمْ یَجْلِسْ .فَلَمَّا کَانَ قَبْلَ أَنْ یُّسَلِّمَ‘ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ‘ وَہُوَ جَالِسٌ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا فِیْ ھٰذِہِ الْأَحَادِیْثِ أَنَّ الْفَرَاغَ الْمَذْکُوْرَ فِی الْأَحَادِیْثِ الَّتِیْ فِیْ أَوَّلِ ھٰذَا الْبَابِ ہُوَ قَبْلَ السَّلَامِ .
٢٤٨٩: عبدالرحمن بن ہرمز اعرج نے عبداللہ بن بحینہ (رض) سے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک نماز پڑھائی ہمارا خیال ہے کہ وہ نماز عصر تھی آپ دوسری رکعت میں کھڑے ہوگئے اور بیٹھے نہیں سلام سے پہلے بیٹھ کر دو سجدے کئے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں ان روایات بالا میں جس فراغت کا ذکر ہے اس سے مراد سلام سے پہلے والے دو سجدے ہیں۔
تخریج : مسند احمد ٥؍٣٤٥‘ دارقطنی ١؍٣٦٥۔
حاصل روایات : ان روایات سے سجدہ سہو کا قبل السلام ہونا معلوم ہوا اور فراغت سے مراد سلام سے پہلی والی فراغت ہے۔