۲۵۰۴: حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ‘ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ‘ عَنْ زَیْدٍ‘ عَنْ جَابِرٍ‘ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِیْ رَبَاحٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ قَالَ : صَلَّیْتُ خَلْفَ ابْنِ الزُّبَیْرِ‘ فَسَلَّمَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ‘ فَسَبَّحَ الْقَوْمُ‘ فَقَامَ فَأَتَمَّ الصَّلَاۃَ‘ فَلَمَّا سَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ بَعْدَ السَّلَامِ .قَالَ عَطَائٌ : فَانْطَلَقْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ فَذَکَرْتَ لَہٗ مَا فَعَلَ ابْنُ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ فَقَالَ : أَحْسَنَ وَأَصَابَ .
٢٥٠٤: عطاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن الزبیر (رض) کے پیچھے نماز پڑھی انھوں نے دو رکعتوں پر سلام پھیرا لوگوں سے سبحان اللہ کہا وہ کھڑے ہوئے اور نماز کو مکمل کیا جب سلام پھیرا تو سلام کے بعد دو سجدے کئے عطاء کہتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کی خدمت میں گیا اور میں نے ان کو ابن زبیر کا عمل بتلایا تو انھوں نے توثیق و تحسین و تصویب فرمائی۔
تخریج : مسند احمد ١؍٣٥١‘ مجمع الزوائد ٢؍٣٥٠۔