۲۵۱۶: حَدَّثَنَا رَبِیْعُ ڑ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ‘ عَنْ أَیُّوْبَ‘ عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ‘ عَنْ (أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِحْدٰی صَلَاتٰی الْعَشِیِّ‘ الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرَ‘ وَأَکْثَرُ ظَنِّیْ أَنَّہٗ ذَکَرَ الظُّہْرَ‘ فَصَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ‘ ثُمَّ قَامَ إِلٰی خَشَبَۃٍ فِیْ مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ‘ فَوَضَعَ یَدَیْہِ عَلَیْہَا‘ إِحْدَاہُمَا عَلَی الْأُخْرٰی‘ یُعْرَفُ فِیْ وَجْہِہِ الْغَضَبُ .قَالَ : وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَالُوْا : أَقَصُرَتِ الصَّلَاۃُ‘ وَفِی النَّاسِ أَبُوْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ وَعُمَرُ‘ فَہَابَاہُ أَنْ یُّکَلِّمَاہُ .فَقَامَ رَجُلٌ طَوِیْلُ الْیَدَیْنِ‘ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمَّاہُ ذَا الْیَدَیْنِ‘ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ أَنَسِیْتُ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلَاۃُ؟ فَقَالَ : لَمْ أَنْسَ‘ وَلَمْ تَقْصُرِ الصَّلَاۃُ قَالَ : بَلْ نَسِیْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ .فَأَقْبَلَ عَلَی الْقَوْمِ فَقَالَ : أَصَدَقَ ذُو الْیَدَیْنِ؟ فَقَالُوْا : نَعَمْ‘ فَجَائَ فَصَلّٰی بِنَا الرَّکْعَتَیْنِ الْبَاقِیَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ‘ ثُمَّ کَبَّرَ‘ ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُوْدِہٖ أَوْ أَطْوَلَ‘ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہٗ‘ فَکَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُوْدِہٖ أَوْ أَطْوَلَ‘ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہٗ وَکَبَّرَ) .
٢٥١٦: ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ ہمیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں پچھلے پہر کی ایک نماز ظہر یا عصر پڑھائی اور میرا زیادہ گمان یہ ہے کہ ابوہریرہ (رض) نے ظہر کا ذکر کیا دو رکعت پڑھائیں پھر آپ مسجد کے اگلی جانب لکڑی کے پاس کھڑے ہوئے اور اس پر اپنے ہاتھ رکھے اور ایک ہاتھ کو دوسرے پر رکھا آپ کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار تھے ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ تیزی کرنے والے لوگوں سے بھی آگے نکل گئے تو لوگوں نے کہا کیا نماز کم ہوگئی اور لوگوں میں حضرت ابوبکر و عمر (رض) بھی تھے مگر ان دونوں نے رعب نبوت کی وجہ سے بات نہ کی۔ تو ایک لمبے ہاتھوں والا شخص کھڑے ہو کر کہنے لگا آپ اس کو ذوالیدین فرمایا کرتے تھے۔ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا نماز کم کردی گئی یا آپ بھول گئے ؟ آپ نے فرمایا نہ میں بھولا اور نہ نماز کم کی گئی اس نے کہا بلکہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ بھول گئے۔ پس آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کیا ذوالیدین ؟ نے سچ کہا ؟ انھوں نے جواب دیا جی ہاں۔ پس آپ واپس تشریف لائے اور ہمیں باقی دو رکعت نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا اور تکبیر کہی پھر اسی قدر سجدہ کیا یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا پھر اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی اور اسی جیسا یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔
تخریج : روایت نمبر ٢٥١٤ کی تخریج ملاحظہ ہو۔ ابو داؤد ١؍١٤٤‘ مسلم ١؍٢١٣۔