hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2529

.

الطحاوي

2529
Al Tahawi
۲۵۲۹: بِمَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَیْمُوْنٍ‘ قَالَ : ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ‘ عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ‘ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ‘ عَنْ ہِلَالِ بْنِ أَبِیْ مَیْمُوْنَۃَ‘ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ‘ (عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ قَالَ : بَیْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ صَلَاۃٍ اِذْ عَطَسَ رَجُلٌ فَقُلْتُ : یَرْحَمُکَ اللّٰہُ فَحَدَقَنِی الْقَوْمُ بِأَبْصَارِہِمْ‘ فَقُلْتُ : وَاثْکَلَ أُمَّاہُ مَا لَکُمْ تَنْظُرُوْنَ إِلَیَّ قَالَ : فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَیْدِیْہِمْ عَلٰی أَفْخَاذِہِمْ .فَلَمَّا رَأَیْتَہٗ مْ یُسَکِّتُوْنَنِیْ سَکَتّ فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِہٖ دَعَانِیْ‘ فَبِأَبِیْ وَأُمِّی مَا رَأَیْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَہٗ وَلَا بَعْدَہٗ‘ أَحْسَنَ تَعْلِیْمًا مِنْہُ‘ وَاللّٰہِ مَا ضَرَبَنِیْ وَلَا کَہَرَنِیْ وَلَا سَبَّنِیْ‘ وَلٰـکِنْ قَالَ لِیْ إِنَّ صَلَاتَنَا ھٰذِہٖ لَا یَصْلُحُ فِیْہَا شَیْئٌ مِنْ کَلَامِ النَّاسِ إِنَّمَا ہِیَ التَّکْبِیْرُ وَالتَّسْبِیْحُ‘ وَتِلَاوَۃُ الْقُرْآنِ) .
٢٥٢٩: معاویہ بن حکم سلمی کہتے ہیں میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز میں تھا جبکہ ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے یرحمکم اللہ کہا لوگوں نے مجھے تیز نگاہوں سے دیکھا میں نے کہا تمہاری ماں تمہیں گم کرے تم مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو اس پر لوگوں نے اپنے ہاتھ رانوں پر مارے جس سے میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں نے خاموشی اختیار کرلی جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو میری ماں باب آپ پر قربان ہوں میں نے آپ سے پہلے اور بعد آپ سے بہتر تعلیم دینے والا نہیں دیکھا اللہ کی قسم نہ مجھے مارا نہ ڈانٹا نہ گالم گلوچ کی بلکہ مجھے فرمایا ہماری اس نماز میں لوگوں کی گفتگو میں سے کوئی چیز روا نہیں وہ تکبیر ‘ تسبیح ‘ تلاوت قرآن مجید کا نام ہے۔
تخریج : مسلم فی المساجف نمبر ٣٣‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٦٧‘ نمبر ٩٣٠‘ نسائی فی السہو باب ٢٠‘ دارمی فی الصلاۃ باب ١٧٧۔
مؤقف فریق ثانی اور دلائل : نماز میں امام و مقتدی کے کسی قسم کے کلام سے نماز فاسد ہوجاتی ہے خواہ وہ کلام سہواً یا قصداً ۔ دلائل یہ ہیں۔