۲۵۳۱: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ‘ قَالَ : ثَنَا فُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ‘ عَنْ ہِلَالِ بْنِ عَلِیٍّ‘ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ‘ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ‘ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَہٗ وَزَادَ (فَإِذَا کُنْتُ فِیْہَا فَلْیَکُنْ ذٰلِکَ شَأْنُکَ) .أَوَ لَا تَرٰی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ لَمَّا عَلَّمَ مُعَاوِیَۃَ بْنَ الْحَکَمِ‘ اِذْ تَکَلَّمَ فِی الصَّلَاۃِ قَالَ لَہٗ (إِنَّ صَلَاتَنَا ھٰذِہٖ لَا یَصْلُحُ فِیْہَا شَیْئٌ مِنْ کَلَامِ النَّاسِ‘ إِنَّمَا ہِیَ التَّسْبِیْحُ وَالتَّکْبِیْرُ‘ وَقِرَائَ ۃُ الْقُرْآنِ) .وَلَمَّا لَمْ یَقُلْ لَہٗ أَوْ یَنُوْبُک فِیْہَا شَیْئٌ مِمَّا تَرَکَہٗ إِمَامُکَ‘ فَتَکَلَّمْ بِہٖ، فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ الْکَلَامَ فِی الصَّلَاۃِ بِغَیْرِ التَّسْبِیْحِ وَالتَّکْبِیْرِ وَقِرَائَ ۃِ الْقُرْآنِ یَقْطَعُہَا .ثُمَّ قَدْ عَلَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بَعْدَ ذٰلِکَ مَا یَفْعَلُوْنَ‘ لِمَا یَنُوْبُہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ .
٢٥٣١: عطاء بن یسار نے معاویہ بن حکم سلمی سے اپنی اسناد سے روایت بیان کی اس میں یہ اضافہ ہے فاذا کنت فیہا فلیکن ذلک شانک جب تم نماز میں ہو تو تمہارا حال اسی طرح ہونا مناسب ہے۔
حاصل روایات : اس روایت معاویہ میں غور کرو کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب علم ہوا کہ معاویہ نے بات کی ہے تو آپ نے فرمایا ہماری نماز کے مناسب نہیں کہ اس میں انسانی گفتگو کی جائے کیونکہ نماز تسبیح و تکبیر اور قراءت قرآن کا نام ہے اور آپ نے ان کو یہ بھی نہیں فرمایا کہ فلاں چیز اس کے قائم مقام ہوگی جو تیرے امام نے ترک کیا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ تسبیح تکبیر اور قراۃ قرآن کے علاوہ جو بھی کلام ہو وہ نماز کو قطع کر دے گی پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ چیز بتلائی جو اس کا قائم مقام بن سکتی ہے۔
نماز میں پیش آئند چیز کا بدل کیا ہے ؟ روایات ملاحظہ ہوں۔