۲۵۳۳: حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْن مُنْقِذٍ‘ قَالَ : ثَنَا الْمُقْرِئُ‘ عَنِ الْمَسْعُوْدِیِّ‘ عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ‘ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ ڑالسَّاعِدِیِّ‘ قَالَ : (انْطَلَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلٰی قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لِیُصْلِحَ بَیْنَہُمْ‘ فَجَائَ حِیْنَ الصَّلَاۃِ‘ وَلَیْسَ بِحَاضِرٍ‘ فَتَقَدَّمَ أَبُوْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .فَبَیْنَمَا ہُوَ کَذٰلِکَ اِذْ جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَفَّحَ الْقَوْمُ‘ فَأَشَارَ إِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَثْبُتَ‘ فَأَبَیْ أَبُوْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حَتّٰی نَکَصَ‘ فَتَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰی .فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہٗ قَالَ لِأَبِیْ بَکْرٍ : مَا مَنَعَکَ أَنْ تَثْبُتَ کَمَا أَمَرْتُکَ قَالَ : لَمْ یَکُنْ لِابْنِ أَبِیْ قُحَافَۃَ أَنْ یَتَقَدَّمَ أَمَامَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .قَالَ : فَأَنْتُمْ مَا لَکُمْ صَفَّحْتُمْ؟ قَالُوْا لِنُؤْذِنَ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : التَّصْفِیْحُ لِلنِّسَائِ، وَالتَّسْبِیْحُ لِلرِّجَالِ) .
٢٥٣٣: ابو حازم نے سہل بن سعد ساعدی سے نقل کیا کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انصار کے کسی قبیلہ کے ہاں صلح کرانے تشریف لے گئے نماز کا وقت آیا آپ موجود نہ تھے تو ابوبکر (رض) بڑھے وہ ابھی اسی حال میں تھے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے لوگوں نے تصفیح شروع کردی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو اپنی جگہ قائم رہنے کا اشارہ فرمایا مگر ابوبکر (رض) نے پیچھے ہٹنے کے علاوہ ہر چیز سے انکار کردیا پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھا چکے تو ابوبکر کو مخاطب کر کے فرمایا جب میں نے تمہیں حکم دیا تو تم اپنی جگہ قائم کیوں نہیں رہے تو انھوں نے کہا ابو قحافہ کے بیٹے کو مناسب نہیں کہ وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آگے بڑھے پھر لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا تم نے تصفیح کیوں کی ؟ انھوں نے جواب دیا تاکہ ابوبکر (رض) کو اطلاع ہوجائے آپ نے فرمایا تصفیح عورتوں کے لیے ہے اور مردوں کے لیے تسبیح ہے۔
تخریج : بخاری فی الاحکام باب ٣٦‘ نسائی فی السہو باب ٤‘ مسند احمد ٥؍٣٣١۔