۲۵۴۷: مَا حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِیْلَ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا عَاصِمٌ‘ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ‘ قَالَ : (قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : کُنَّا نَتَکَلَّمُ فِی الصَّلَاۃِ‘ وَنَأْمُرُ بِالْحَاجَۃِ‘ فَقَدِمْنَا عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحَبَشَۃِ وَہُوَ یُصَلِّیْ‘ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ‘ فَأَخَذَنِیْ مَا قَدُمَ وَمَا حَدَثَ فَلَمَّا قَضَی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاتَہٗ، قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ نَزَلَ فِیْ شَیْئٌ ؟ قَالَ لَا وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ مِنْ أَمْرِہٖ مَا شَائَ) .
٢٥٤٧: ابو وائل بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں ہم نماز میں کلام کیا کرتے تھے اور ضرورت کا کہہ دیا کرتے تھے جب ہم حبشہ سے آپ کی خدمت میں لوٹے اس وقت آپ نماز ادا فرما رہے تھے میں نے سلام کیا آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا میں تو پریشان ہوگیا جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا میرے متعلق کوئی چیز اتری ہے ؟ فرمایا نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنا نیا حکم جو چاہتے ہیں بھیجتے ہیں۔ یہ ابو سعید خدری (رض) شاید عمر میں حضرت زید بن ارقم (رض) سے بہت چھوٹے ہوں۔ واقعہ اسی طرح ہے وہ یہ بتلا رہے ہیں کہ انھوں نے نماز میں گفتگو کے مباح ہونے کا زمانہ پایا ہے اور اس سلسلہ حضرت ابن مسعود (رض) کا ارشاد ملاحظہ ہو۔
تخریج : بخاری فی العمل فی الصلاۃ باب ٢‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٦٦‘ نمبر ٩٢٤۔