hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2569

.

الطحاوي

2569
Al Tahawi
۲۵۶۹: حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ‘ قَالَ : أَنَا شَرِیْکٌ‘ عَنِ الْأَعْمَشِ‘ عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ‘ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ‘ قَالَ : (دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَرَأٰی قَوْمًا یُصَلُّوْنَ وَقَدْ رَفَعُوْا أَیْدِیَہُمْ .فَقَالَ : مَالِیْ أَرَاکُمْ تَرْفَعُوْنَ أَیْدِیَکُمْ کَأَنَّہَا أَذْنَابُ خَیْلِ شَمْسٍ‘ اُسْکُنُوْا فِی الصَّلَاۃِ) .فَلَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالسُّکُوْنِ فِی الصَّلَاۃِ‘ وَکَانَ رَدُّ السَّلَامِ بِالْاِشَارَۃِ فِیْہِ خُرُوْجٌ مِنْ ذٰلِکَ‘ لِأَنَّ فِیْہِ رَفْعَ الْیَدِ وَتَحْرِیْکَ الْأَصَابِعِ‘ ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّہٗ قَدْ دَخَلَ فِیْمَا أَمَرَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ تَسْکِیْنِ الْأَطْرَافِ فِی الصَّلَاۃِ .وَھٰذَا الْقَوْلُ الَّذِیْ بَیَّنَّا فِیْ ھٰذَا الْبَابِ‘ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٢٥٦٩: مسیب بن رافع نے حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لائے آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں اور انھوں نے اپنے ہاتھ اٹھا رکھے ہیں آپ نے فرمایا میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم نماز میں گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھوں کو اٹھانے والے ہو نماز میں سکون اختیار کرو۔
تخریج : مسلم فی الصلاۃ نمبر ١١٩۔
حاصل روایات : جب نماز میں تسکین اطراف کا حکم ہے تو اشارے سے سلام کرنا اس سے نکلنا ہے کیونکہ اس میں ہاتھ بلند ہوتا اور انگلیاں ہلتی ہیں اس سے ثابت ہوا کہ یہ بھی اس روایت کے تحت داخل ہے۔
یہ قول ہمارے ائمہ ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔