۲۵۷۴: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ‘ قَالَ : ثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ‘ عَنِ ابْنِ أَبِیْ عَرُوْبَۃَ‘ عَنْ قَتَادَۃَ‘ عَنِ الْحَسَنِ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ‘ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ الْکَلْبُ‘ وَالْحِمَارُ‘ وَالْمَرْأَۃُ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذِہِ الْآثَارِ فَقَالُوْا : یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ الْکَلْبُ الْأَسْوَدُ‘ وَالْمَرْأَۃُ‘ وَالْحِمَارُ‘ اِذَا مَرُّوْا بَیْنَ یَدَیِ الْمُصَلِّیْ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَا یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ شَیْئٌ مِنْ ھٰذَا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ۔
٢٥٧٤: حسن نے حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا کتا ‘ گدھا ‘ عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ کچھ علماء نے ان آثار کے پیش نظر فرمایا کہ سیاہ کتا ‘ عورت ‘ گدھا جب نمازی کے سامنے سے گزر جائیں تو نماز ٹوٹ جائے گی۔ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے کوئی چیز بھی نماز کے لیے گزرنے کی وجہ سے نماز کو توڑنے والی نہیں۔ ان کی دلیل یہ آثار ہیں۔
تخریج : ابن ماجہ فی الاقامہ باب ٣٨٠ نمبر ٩٤٩؍٩٥١۔
حاصل روایات : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیاہ کتا ‘ عورت اور گدھا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔
فریق ثانی کا مؤقف اور دلائل :
ان میں سے کوئی چیز بھی آگے سے گزرے تو نماز نہیں ٹوٹتی۔ دلائل یہ ہیں۔