۲۵۸۸: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ بَشَّارٍ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ جُرَیْجٍ یُحَدِّثُ عَنْ کَثِیْرِ بْنِ کَثِیْرٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ جَدِّہٖ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِیْ وَدَاعَۃَ‘ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ ، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ (لَیْسَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الطَّوَافِ سُتْرَۃٌ) .قَالَ سُفْیَانُ : فَحَدَّثَنَا کَثِیْرُ بْنُ کَثِیْرٍ بَعْدَمَا سَمِعْتُہٗ مِنِ ابْنِ جُرَیْجٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ بَعْضُ أَہْلِیْ، وَلَمْ أَسْمَعْہُ مِنْ أَبِیْ.
٢٥٨٨: کثیر بن کثیر نے اپنے والد سے ‘ اپنے دادا مطلب بن ابی وداعہ سے نقل کیا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے البتہ اتنی بات زائد ہے آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کوئی سترہ نہ تھا۔ سفیان کہتے ہیں کہ ہمیں کثیر بن کثیر نے اس وقت بیان کیا جبکہ میں نے ابن جریج سے یہ روایت سنی کثیر کہنے لگے ہمارے گھر والوں میں سے کسی نے بتلایا ہے میں نے یہ روایت اپنے والد سے براہ راست نہیں سنی۔