۲۶۰۶: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ بَکْرُ بْنُ مُضَرَ‘ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ‘ عَنْ بُکَیْرٍ أَنَّ بِشْرَ بْنَ سَعِیْدٍ‘ وَسُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ‘ حَدَّثَاہُ أَنَّ اِبْرَاہِیْمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ‘ حَدَّثَہُمَا أَنَّہٗ کَانَ فِیْ صَلَاۃٍ‘ فَمَرَّ بِہٖ سَلِیْطُ بْنُ أَبِیْ سَلِیْطٍ‘ فَجَذَبَہٗ اِبْرَاہِیْمُ فَخَرَّ فَشُجَّ .فَذَہَبَ إِلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَأَرْسَلَ إِلَیَّ فَقَالَ لِیْ (مَا ھٰذَا؟) فَقُلْتُ : مَرَّ بَیْنَ یَدَیْ‘ فَرَدَدْتہ‘ لِئَلَّا یَقْطَعَ صَلَاتِیْ. قَالَ : وَیَقْطَعُ صَلَاتُکَ؟ قُلْتُ : أَنْتَ أَعْلَمُ‘ قَالَ : إِنَّہٗ لَا یَقْطَعُ صَلَاتَک .
٢٦٠٦: ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ میں نماز میں مصروف تھا میرے سامنے سے سلیط بن ابی سلیط گزرا۔ ابراہیم نے اس کو کھینچا پس وہ گرپڑے اور ان کے سر پر زخم آگیا سلیط عثمان (رض) کے پاس گئے انھوں نے میری طرف پیغام بھیجا اور مجھے کہا یہ کیا حرکت ہے ؟ میں نے کہا یہ میرے سامنے سے گزرا میں نے اس کو روکا تاکہ یہ میری نماز نہ توڑ دے آپ نے فرمایا اس کے گزرنے سے تیری نماز ٹوٹ جائے گی ؟ میں نے کہا اس کا تو آپ کو علم ہے۔ آپ نے فرمایا اس کے گزرنے سے تمہاری نماز نہیں ٹوٹتی تھی۔