۲۶۰۸: حَدَّثَنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ‘ قَالَ : ثَنَا قَیْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا مَسْلَمَۃُ بْنُ عَلْقَمَۃَ‘ عَنْ دَاوٗدَ بْنِ أَبِیْ ہِنْدٍ‘ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ مَوْلٰی بَنِیْ ہَاشِمٍ‘ عَنْ (ذِیْ مِخْبَرِ بْنِ أَخِی النَّجَاشِیِّ‘ قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سَفَرٍ‘ فَنِمْنَا فَلَمْ نَسْتَیْقِظْ إِلَّا بِحَرِّ الشَّمْسِ فَتَنَحَّیْنَا مِنْ ذٰلِکَ الْمَکَانِ .قَالَ : فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْغَدِ‘ حِیْنَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ أَیْ طَلَعَتْ‘ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَمَرَہٗ‘ فَأَقَامَ‘ فَصَلّٰی بِنَا الصَّلَاۃَ .ؑفَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ قَالَ ھٰذِہٖ صَلَاتُنَا بِالْأَمْسِ) .
٢٦٠٨: بنی ہاشم کے مولیٰ عباس بن عبدالرحمن نے ذی مخبر ابن اخی النجاشی سے روایت کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر میں تھے پس ہم سو گئے اور سورج کی گرمی سے ہم بیدار ہوئے پھر ہم اس جگہ سے دور ہوئے ہمیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی جب دوسرا دن ہوا اور سورج طلوع ہوا تو بلال کو اذان کا حکم فرمایا انھوں نے اذان دی پھر ان کو اقامت کا حکم فرمایا پس ہمیں نماز پڑھائی جب نماز مکمل ہوگئی تو فرمایا یہ ہماری کل والی نماز ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١١‘ نمبر ٤٤٥۔
خلاصہ الزام :
نمبر 1: بعض اہل ظواہر جو نماز رہ جائے اس کو دو مرتبہ پڑھنے کو کہتے ہیں ایک جب یاد آئے دوسرے جب اگلے دن اسی نماز کا وقت آئے۔
نمبر 2: بعض محدثین کا قول ہے بعد والی نماز کے فرائض سے متصل ادا کرے گا۔
نمبر 3: ائمہ اربعہ و جملہ محدثین (رح) کے ہاں جس وقت یاد آئے اسی وقت پڑھنی لازم ہے ائمہ ثلاثہ اوقات ممنوعہ میں بھی درست کہتے ہیں مگر احناف اوقات ممنوعہ کے علاوہ میں لازم قرار دیتے ہیں۔
مؤقف فریق اوّل اور دلائل : متروکہ نماز کو دو مرتبہ پڑھنا لازم ہے ‘ جب یاد آئے اور جب اگلے روز اس کا وقت آئے۔ دلائل یہ ہیں۔