۲۶۱۳: حَدَّثَنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ‘ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی‘ قَالَ : أَنَا زَافِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ‘ عَنْ شُعْبَۃَ‘ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ‘ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَلْقَمَۃَ‘ عَنْ (ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ .فَلَمَّا کُنَّا بِدَہَاسٍ مِنَ الْأَرْضِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ یَکْلَؤُنَا اللَّیْلَۃَ قَالَ بِلَالٌ : أَنَا‘ قَالَ اِذًا تَنَامُ فَنَامَ حَتّٰی طَلَعَتِ الشَّمْسُ‘ فَاسْتَیْقَظَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ‘ فَقَالُوْا تَکَلَّمُوْا حَتّٰی یَسْتَیْقِظَ‘ فَاسْتَیْقَظَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اِفْعَلُوْا مَا کُنْتُمْ تَفْعَلُوْنَ‘ وَکَذٰلِکَ یَفْعَلُ مَنْ نَامَ أَوْ نَسِیَ) .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا ۔
٢٦١٣: عبدالرحمن بن علقمہ نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک میں تھے۔ جب ہم ایک ریتلی زمین پر پہنچے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آج رات کون ہماری نگرانی کرے گا بلال نے کہا میں۔ فرمایا پھر تو تو سو جائے گا وہ طلوع آفتاب تک سوتے رہے پس فلاں ‘ فلاں بیدار ہوئے انھوں نے آپس میں کہا بات کرو تاکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوجائیں چنانچہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوگئے تو آپ نے فرمایا تم وہی کرو جو تم کیا کرتے تھے اور ہر نماز سے سونے والا یا بھولنے والا اسی طرح کرتا ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اس سلسلہ میں روایات وارد ہیں۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٤٠‘ نمبر ٤٤٧‘ مسند احمد ١‘ ٣٨٦؍٤٦٤۔