hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2627

.

الطحاوي

2627
Al Tahawi
۲۶۲۷: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ زُرْعَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَکِ‘ قَالَ : ثَنَا صَدَقَۃُ بْنُ خَالِدٍ‘ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ مَرْیَمَ‘ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُکَیْمٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ (أَشْیَاخُ جُہَیْنَۃَ‘ قَالُوْا : أَتَانَا کِتَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْ قُرِئَ إِلَیْنَا کِتَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِشَیْئٍ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ جُلُوْدَ الْمَیْتَۃِ لَا تَطْہُرُ‘ وَإِنْ دُبِغَتْ‘ وَلَا یَجُوْزُ الصَّلَاۃُ عَلَیْہَا‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : اِذَا دُبِغَ جِلْدُ الْمَیْتَۃِ أَوْ عَصَبُہَا‘ فَقَدْ طَہُرَ‘ وَلَا بَأْسَ بِبَیْعِہٖ وَالْاِنْتِفَاعِ بِہٖ، وَالصَّلَاۃِ عَلَیْہَا .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی فِیْمَا احْتَجُّوْا بِہٖ عَلَیْہِمْ‘ مِنْ حَدِیْثِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلَی الَّذِیْ ذَکَرْنَا‘ أَنَّ قَوْلَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (لَا تَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِإِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ) فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ أَرَادَ بِذٰلِکَ مَا دَامَ مَیْتَۃً غَیْرَ مَدْبُوْغٍ فَإِنَّہٗ قَدْ کَانَ یَسْأَلُ عَنِ الِانْتِفَاعِ لِشَحْمِ الْمَیْتَۃِ‘ فَأَجَابَ الَّذِیْ سَأَلَہُ بِمِثْلِ ھٰذَا .
٢٦٢٧: عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ مجھے جھینہ کے شیوخ نے بیان کیا کہ ہمارے پاس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط آیا یا ہمارے لیے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط پڑھا گیا کہ مردار کی کسی چیز سے فائدہ مت اٹھاؤ۔ حضرت جابر (رض) نے سوال کے ذریعہ کہ جس کا جواب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے یہ تھا کہ ” مردار سے نفع حاصل نہ کرو “ یہ خبر دی کہ یہ چربی سے فائدہ حاصل کرنے پر محمول ہے۔ مگر جس کو دباغت دی جائے یہاں تک کہ وہ مردار والی حالت سے نکل کر کسی اور معنی کو اختیار کرلے تو وہ پاک ہوجائے گی۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلہ میں بہت سے صحیح و متواتر آثار وارد ہوئے ہیں جو اس معنی کی وضاحت کرنے والے ہیں اور اس دباغت سے اس کی پاکیزگی کی خبر دیتے ہیں۔ ذیل میں درج کیے جاتے ہیں۔
تخریج : ابو داؤد فی اللباس باب ٣٩‘ نمبر ٤١٢٨۔
حاصل روایات : مردار کا چمڑہ پاک نہیں ہوسکتا خواہ اس کی دباغت کرلی جائے اور اس سے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا اگر اس کو دباغت دے دی جائے تب بھی اس پر نماز درست نہیں۔
مؤقف فریق ثانی و دلائل : مردار کا چمڑہ دباغت سے پاک ہوجاتا ہے اسی طرح اس کا پٹھہ بھی دباغت سے پاک ہوجاتا ہے تو وہ بھی پاک ہوجاتا ہے اس کو فروخت کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے اور اس پر نماز پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں۔ دلیل یہ ہے۔
سابقہ روایات کا جواب : لا تنتفعوا من المیتۃ اس روایت کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ جب تک وہ غیر مدبوغ رہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مردار کی چربی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے اسی طرح کا جواب دیا یعنی جب تک کھال کے ساتھ چربی لگی ہو تو حرام ہے اور دباغت سے چربی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح اس سے مردار کی چربی کی حرمت مراد ہے۔
جیسا اگلی روایت سے واضح ہو رہا ہے۔