۲۶۴۹: وَحَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِیٍّ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ‘ عَنْ سِمَاکٍ‘ عَنْ عِکْرَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : (مَاتَتْ شَاۃٌ لِسَوْدَۃِ بِنْتِ زَمْعَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَقَالَتْ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَاتَتْ فُلَانَۃُ‘ تَعْنِی الشَّاۃَ‘ قَالَ : فَلَوْلَا أَخَذْتُمْ مَسْکَہَا؟ .فَقَالَتْ : نَأْخُذُ مَسْکَ شَاۃٍ قَدْ مَاتَتْ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا قَالَ اللّٰہُ (قُلْ لَّا أَجِدُ فِیْمَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَطْعَمُہٗ) الْآیَۃَ‘ فَإِنَّہٗ لَا بَأْسَ بِأَنْ تَدْبُغُوْہُ فَتَنْتَفِعُوْا بِہٖ .قَالَتْ : فَأَرْسَلْتُ إِلَیْہَا‘ فَسَلَخَتْ مَسْکَہَا فَدَبَغَتْہُ‘ فَاتَّخَذَتْ مِنْہُ قِرْبَۃً‘ حَتّٰی تَخَرَّقَتْ) : فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَا سَأَلَتْہُ عَنْ ذٰلِکَ‘ قَرَأَ عَلَیْہَا الْآیَۃَ الَّتِیْ نَزَلَ فِیْہَا تَحْرِیْمُ الْمَیْتَۃِ .فَأَعْلَمَہَا بِذٰلِکَ أَنَّ مَا حَرُمَ عَلَیْہِمْ بِتِلْکَ الْآیَۃِ مِنَ الشَّاۃِ حِیْنَ مَاتَتْ إِنَّمَا ہُوَ الَّذِیْ یُطْعَمُ مِنْہَا اِذَا ذُکِّیَتْ لَا غَیْرُ‘ وَأَنَّ الْاِنْتِفَاعَ بِجُلُوْدِہَا اِذَا دُبِغَتْ‘ غَیْرُ دَاخِلٍ فِیْ ذٰلِکَ الَّذِیْ حَرُمَ مِنْہَا .وَقَدْ رَوٰی عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ أَیْضًا‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا نَحْوًا مِنْ ذٰلِکَ .
٢٦٤٩: عکرمہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سودہ (رض) کی بکری مرگئی اس نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بکری مرگئی آپ نے فرمایا تم اس کی کھال کیوں نہ اتار لی ؟ اس نے کہا کیا ہم مردہ بکری کی کھال اتار لیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : قل لا اجد فی ما اوحی انی محرما علی طاعم یطعمہ (٠ الانعام۔ ١٤٥) اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم اس کی کھال کو دباغت دے کر استعمال میں لاؤ۔ سودہ کہنے لگیں میں نے اس کی طرف پیغام بھیجا تو انھوں نے کھال اتروا کر اس کو دباغت دی پس اس سے میں نے ایک مشکیزہ بنایا (اس کو استعمال کرتی رہی) یہاں تک کہ وہ پھٹ گئی۔ اس روایت میں اس طرح ہے کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سامنے تحریم مردار والی آیت تلاوت فرمائی اور اس کو بتلا دیا اس حکم کے ذریعہ مردار بکری کا کھانا حرام کردیا گیا خواہ اس کو ذبح کردیا جائے اس کے علاوہ نہیں اور دباغت کے بعد اس کے چمڑے سے فائدہ حاصل کرنا تو اس حرمت میں شامل نہیں۔ چنانچہ حضرت عبیداللہ نے ابن عباس (رض) سے بھی اس طرح کی روایت کی ہے۔ ملاحظہ ہو۔
حاصل روایات :
اس روایت میں صاف موجود ہے کہ جب حضرت سودہ (رض) نے سوال کیا تو آپ نے تحریم میتہ والی آیت استشہاد میں پڑھی اور اسے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت سے اس مردہ بکری سے گوشت کو حرام کیا ہے اگر وہ ذبح کرلی جائے تو گوشت حلال ہوگا آپ نے واضح فرما دیا کہ جب چمڑے کو دباغت دے دی جائے تو وہ پاک ہوجاتا ہے وہ اس تحریم والی آیت کی تحریم میں شامل ہی نہیں اور عبیداللہ بن عبداللہ کی روایت ابن عباس (رض) سے بھی اسی طرح کی موجود ہے۔ روایت یہ ہے۔