۲۶۵۶: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ‘ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُکَیْرٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عُقَیْلٌ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ‘ أَنَّ سَعِیْدَ بْنِ الْعَاصِ أَخْبَرَہٗ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا زَوْجَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ حَدَّثَاہُ (أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اسْتَأْذَنَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَھٰذَا أَصْلُ ھٰذَا الْحَدِیْثِ‘ لَیْسَ فِیْہِ ذِکْرُ کَشْفِ الْفَخِذَیْنِ أَصْلًا. وَقَدْ جَائَ تْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آثَارٌ مُتَوَاتِرَۃٌ صِحَاحٌ فِیْہَا أَنَّ الْفَخِذَ مِنَ الْعَوْرَۃِ . فَمِمَّا رُوِیَ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ ۔
٢٦٥٦: یحییٰ بن سعید بن العاص کہتے ہیں کہ سعید بن العاص (رض) نے خبر دی کہ عائشہ (رض) اور عثمان (رض) دونوں نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر (رض) آئے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی پھر اسی طرح کی روایت کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں۔ اس روایت اصل یہ ہے۔ اس میں رانوں کے ننگا کرنے کا سرے سے تذکرہ ہی نہیں اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متواتر صحیح روایات میں وارد ہوا ہے کہ ران ستر کا حصہ ہے۔ ہم ذیل میں چند درج کرتے ہیں۔
تخریج : ٢؍٢٧٧۔
اس روایت کی اصل یہ ہے اس میں کشف فخذین کا اس میں سرے سے تذکرہ ہی نہیں کہ اس سے استدلال ہو بلکہ اس کے بالمقابل ران کے ستر ہونے سے متعلق بہت سی روایات وارد ہیں۔
ران ستر ہے روایات ملاحظہ ہوں۔