۲۶۸۱ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْجِیْزِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عُفَیْرٍ‘ قَالَ : ثَنٰی یَحْیَی بْنُ أَیُّوْبَ‘ قَالَ : ثَنَا عُقَیْلٌ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ عَنْ سَالِمٍ‘ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ کَانَ یَمْشِیْ أَمَامَ الْجَنَازَۃَ وَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَمْشِیْ بَیْنَ یَدٰی الْجَنَازَۃِ وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ) ، وَکَذٰلِکَ السُّنَّۃُ فِی اتِّبَاعِ الْجَنَازَۃِ .
٢٦٨١: ابن شہاب نے سالم سے انھوں نے ابن عمر (رض) کے متعلق نقل کیا کہ وہ جنازہ سے آگے آگے چلتے تھے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازہ سے آگے چلتے اور ابوبکر و عمرو عثمان ] بھی جنازہ سے آگے چلتے۔ جنازوں کے ساتھ چلنے کا یہی طریقہ ہے۔
تخریج : نسائی فی الجنائز باب ٥٨‘ موطا فی الجنائز نمبر ٨‘ ابو داؤد فی الجنائز باب ٤٥‘ ترمذی فی الجنائز باب ٢٦‘ نمبر ١٠٠٨۔