hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2699

.

الطحاوي

2699
Al Tahawi
۲۶۹۹ : وَقَدْ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ‘ قَالَ : ثَنَا إِسْرَائِیْلُ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَرِیْکٍ الْعَامِرِیِّ‘ قَالَ : سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ سَأَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ‘ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لَہٗ نَصْرَانِیَّۃٍ‘ مَاتَتْ .فَقَالَ لَہُ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا : تَأْمُرُ بِأَمْرِکَ وَأَنْتَ بَعِیْدٌ مِنْہَا ثُمَّ تَسِیْرُ أَمَامَہَا‘ فَإِنَّ الَّذِیْ یَسِیْرُ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ لَیْسَ مَعَہَا .فَھٰذَا ابْنُ عُمَرَ یُخْبِرُ أَنَّ الَّذِیْ یَسِیْرُ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ لَیْسَ مَعَہَا .فَاسْتَحَالَ أَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ عِنْدَہُ کَذٰلِکَ‘ وَقَدْ رَأَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَمْشِیْ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ أَصْلَ حَدِیْثِ سَالِمٍ الَّذِیْ رَوَیْنَاہُ فِیْ أَوَّلِ ھٰذَا الْبَابِ‘ إِنَّمَا ہُوَ کَمَا رَوَاہُ مَالِکٌ ؟ عَنِ الزُّہْرِیِّ مَوْقُوْفًا أَوْ کَمَا رَوَاہُ عُقَیْلٌ وَیُوْنُسُ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ عَنْ سَالِمٍ مَوْقُوْفًا .لَا کَمَا رَوَاہُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیْہِ مَرْفُوْعًا .
٢٦٩٩: حارث بن ابی ربیعہ نے عبداللہ بن عمر (رض) سے پوچھا میری نصرانی ام ولد مرگئی اس کا کیا حکم ہے ابن عمر (رض) نے فرمایا اس کے بارے میں (دفن وغیرہ کا) حکم دو لیکن تم اس سے دور رہو پھر اس کے جنازے کے آگے چلو کیونکہ آگے چلنے والا وہ جنازے کے ساتھ شمار نہیں ہوتا۔ یہ ابن عمر (رض) جو کہ یہ بتلا رہے ہیں کہ جنازے سے آگے چلنے والا گویا جنازہ کے ساتھ جانے والا نہیں اور یہ بات اس وقت تک کہنا ممکن نہیں جب کہ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنازے سے آگے چلتے دیکھا ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ سالم والی روایت کی اصل وہ جو ہم نے باب کے شروع میں مالک کسے واسطے سے زھری سے موقوف نقل کی ہے یا جیسا عقیل و یونس نے زھری کی وساطت سے سالم سے موقوف نقل کی ہے۔ اس طرح نہیں جیسا ابن عیینہ نے زھری کے واسطہ سے مرفوعًا نقل کیا ہے۔
لو سنو ! یہ ابن عمر (رض) تو جنازے سے آگے چلنے والے کو جنازہ کے ساتھ نہ جانے والا فرما رہے ہیں پس یہ ناممکن ہے کہ وہ ایسی بات اپنی طرف سے کہیں جبکہ فصل اول کی روایات میں وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازے سے آگے چلنا نقل کرچکے ہیں اس سے یہ ثابت ہوا کہ سالم والی روایت کی اصل وہ ہے جو امام مالک نے زہری سے نقل کی ہے۔ وہ موقوف ہے مرفوع روایت نہیں ہے۔
مزید ابن عمر (رض) کی روایت دیکھیں۔