۲۷: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ قَالَ : ثَنَا مَنْصُوْرٌ عَنْ عَطَائٍ أَنَّ حَبَشِیًّا وَقَعَ فِیْ زَمْزَمَ ، فَمَاتَ فَأَمَرَ ابْنُ الزُّبَیْرِ فَنُزِحَ مَاؤُہَا فَجَعَلَ الْمَائَ لَا یَنْقَطِعُ ، فَنَظَرَ فَإِذَا عَیْنٌ تَجْرِیْ مِنْ قِبَلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ حَسْبُکُمْ .
٢٧ : عطائؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک حبشی زمزم میں گرپڑا اور مرگیا تو عبداللہ بن زبیر (رض) نے زمزم کے تمام پانی کو نکالنے کا حکم دیا وہ نکال دیا گیا مگر نیچے سے پانی منقطع نہیں ہو رہا تھا اچانک ان کی نگاہ پڑی تو ایک چشمہ حجر اسود کی جانب سے پھوٹ رہا تھا پس ابن زبیر (رض) نے فرمایا تمہیں موجودہ پانی کا نکال دینا کافی ہوگیا۔
اللغات : نزح۔ پانی نکالنا۔ قبل جانب ‘ حسبکم۔ کافی ہے۔ یہ اسم فعل ہے۔