hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2701

.

الطحاوي

2701
Al Tahawi
۲۷۰۱ : وَقَدْ حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ‘ قَالَ : أَنَا شَرِیْکٌ‘ عَنْ مُغِیْرَۃَ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ‘ قَالَ : کَانَ الْأَسْوَدُ اِذَا کَانَ مَعَہَا نِسَاء ٌ أَخَذَ بِیَدِیْ‘ فَتَقَدَّمْنَا نَمْشِیْ أَمَامَہَا‘ فَإِذَا لَمْ یَکُنْ مَعَہَا نِسَاء ٌ‘ مَشَیْنَا خَلْفَہَا .فَھٰذَا الْأَسْوَدُ بْنُ یَزِیْدَ - عَلٰی طُوْلِ صُحْبَتِہِ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ‘ وَعَلَی صُحْبَتِہِ لِعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ - قَدْ کَانَ قَصْدُہُ فِی الْمَشْیِ مَعَ الْجَنَازَۃِ إِلَی الْمَشْیِ خَلْفَہَا‘ إِلَّا أَنْ یَعْرِضَ لَہٗ عَارِضٌ فَمَشٰی أَمَامَہَا لِذٰلِکَ الْعَارِضِ‘ لَا لِأَنَّ ذٰلِکَ أَفْضَلُ عِنْدَہُ مِنْ غَیْرِہٖ۔ فَکَذٰلِکَ عُمَرُ‘ مَا رَوَیْنَاہٗ عَنْہُ فِیْمَا فَعَلَہٗ فِیْ جَنَازَۃِ زَیْنَبَ‘ ہُوَ عَلٰی ھٰذَا الْمَعْنَی - عِنْدَنَا - وَاللّٰہُ أَعْلَمُ .
٢٧٠١ : محمد نے ابراہیم سے نقل کیا کہ جب جنازے کے ساتھ عورتیں ہو تیں تو اسود میرے ہاتھ کو پکڑتے ہم ان کے آگے چلنے کے لیے آگے بڑھ جاتے۔ اور جب جب عورتیں نہ ہوتیں تو ہم جنازے پیچھے چلتے۔ یہ اسود بن یزید ہیں جنہوں نے ابن مسعود (رض) کی طویل صحبت اٹھائی اور ان کو حضرت عر (رض) کی صحبت بھی ملی ان کا طریقہ جنازہ میں پیچھے چلنے کا تھا سوائے اس صورت کے جب کوئی عارضہ پیش آجائے ۔ تو وہ اس عارضہ کی بناء پھر آگے چلتے اس بناء پر نہیں کہ یہ آگے چلنا پیچھے چلنے سے ان کے ہاں افضل ہے۔ پس اسی طرح حضرت عمر (رض) نے حضرت زینب (رض) کے جنازہ میں کیا اس کا یہی مطلب ہمارے نزدیک ہے واللہ اعلم۔