hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2723

.

الطحاوي

2723
Al Tahawi
۲۷۲۳ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا الْوَہْبِیُّ‘ قَالَ .ثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ‘ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاہِیْمَ‘ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ مَرْجَانَۃَ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (اِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ عَلٰی جَنَازَۃٍ وَلَمْ یَمْشِ مَعَہَا‘ فَلْیَقُمْ حَتّٰی تَغِیْبَ عَنْہُ‘ وَإِنْ مَشَیْ مَعَہَا فَلاَ یَقْعُدْ حَتّٰی تُوْضَعَ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذِہِ الْآثَارِ فَاتَّبَعُوْہَا وَجَعَلُوْہَا أَصْلًا وَقَلَّدُوْہَا‘ وَأَمَرُوْا مَنْ مَرَّتْ بِہٖ جَنَازَۃٌ أَنْ یَّقُوْمَ لَہَا حَتّٰی تَتَوَارٰی عَنْہُ‘ وَمَنْ مَشَیْ مَعَہَا أَنْ لَا یَقْعُدَ حَتّٰی تُوْضَعَ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَیْسَ عَلٰی مَنْ مَرَّتْ بِہٖ جَنَازَۃٌ أَنْ یَقُوْمَ لَہَا‘ وَلِمَنْ تَبِعَہَا أَنْ یَجْلِسَ‘ وَإِنْ لَمْ تُوْضَعْ .وَقَالُوْا : أَمَّا قِیَامُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَۃِ الْیَہُوْدِیِّ فِی الْحَدِیْثِ الَّذِیْ رَوَاہُ قَیْسُ بْنُ سَعْدٍ‘ وَسَہْلُ بْنِ حُنَیْفٍ‘ فَإِنَّ ذٰلِکَ لَمْ یَکُنْ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ لِأَنَّ مِنْ حُکْمِ الْجَنَائِزِ أَنْ یُّقَامَ لَہَا‘ وَلٰـکِنْ لِمَعْنًی غَیْرِ ذٰلِکَ .وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٢٧٢٣: سعید بن مرجانہ نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی جنازہ پڑھے اور اس کے ساتھ نہ جانا ہو تو اسے اس وقت تک کھڑا رہنا چاہیے یہاں تک کہ وہ نظروں سے غائب ہوجائے اور اگر ساتھ جائے تو جنازے کے زمین پر رکھنے سے پہلے نہ بیٹھے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ کچھ علماء نے ان آثار کی اتباع کی اور ان کو اصل قرار دے کر ان کی تقلید کی اور انھوں نے کہا کہ جس شخص کے پاس سے جنازہ گزرے اسے اس وقت تک کھڑا رہنا چاہیے یہاں تک کہ نظروں سے اوجھل ہو اور اس کے ساتھ چلنے والا جنازہ رکھنے سے پہلے نہ بیٹھے۔ دیگر علماء نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کے پاس سے جنازہ گزرے اسے کھڑے ہونے کی ہاجت نہیں اور اس کے ساتھ چلنے والوں کو جنازہ رکھنے سے پہلے بیٹھنا جائز ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہودی کے جنازے کے لیے کھڑے ہوتے جیسا قیس بن سعد اور سہل بن حنیف (رض) کی روایات میں ہے۔ آپ کا کھڑا ہونا جنازے کی وجہ سے نہ تھا ۔ جنازے کے لیے کھڑا ہونا چاہیے مگر کسی اور وجہ سے نہ کہ اس بناء پر اور نہوں نے۔
حاصل روایات : ان روایات سے جنازے کے لیے کھڑا ہونا ثابت ہوا ہے اور اگر ساتھ نہ جانا چاہتا ہو تو غائب ہونے تک کھڑا رہے اور اگر ساتھ جائے تو جب تک جنازہ رکھا نہ جائے اس وقت تک نہ بیٹھے۔
مؤقف فریق ثانی و دلائل و جوابات : جس کے پاس سے جنازہ گزرے وہ کھڑا نہ ہو اور جنازہ رکھے جانے سے پہلے بھی بیٹھ سکتا ہے۔
پہلے فریق اوّل کی پیش کردہ روایات کا جواب دیا جاتا ہے۔
جواب نمبر 1: قیام النبی۔۔۔ سے دیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہودی کے جنازے کے لیے بطور تکریم نہ کھڑے ہوئے تھے بلکہ ایک خاص وجہ سے کھڑے ہوئے جو اس روایت میں موجود ہے۔