اس روایت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آپ جنازہ کے لئے کھڑے ہوتے تاکہ اس پر نمازِ جنازہ پڑھیں اس وجہ سے نہیں کہ کھڑا ہونا جنازے کی سنتوں میں سے ہے۔
اس مؤقف پر دلائل: جنازے کے لئے کھڑے ہونے کا حکم جن روایات میں وارد ہے وہ منسوخ نہیں اسی طرح جنازے کے ساتھ جانے والا اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ زمین پر نہ رکھا جائے اس پر مندرجہ ذیل روایات شاہد ہیں۔
٢٧٢٦ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ‘ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ مَالِکٌ‘ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ ‘ عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرٍو ‘ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ ‘ عَنْ مَسْعُوْدِ بْنِ الْحَکَمِ ‘ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : (قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَ الْجَنَازَۃِ حَتّٰی تُوْضَعَ ‘ وَقَامَ النَّاسُ مَعَہٗ ، ثُمَّ قَعَدَ بَعْدَ ذٰلِکَ ‘ وَأَمَرَہُمْ بِالْقُعُوْدِ ) .
٢٧٢٦: مسعود بن حکم نے حضرت علی (رض) سے نقل کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازہ کے ساتھ کھڑے رہتے جب تک کہ وہ رکھ نہ دیا جاتا اور لوگ بھی کھڑے رہتے پھر اس کے بعد آپ بیٹھتے اور صحابہ کرام کو بھی بیٹھنے کا حکم فرماتے۔
تخریج : مسلم فی الجنائز نمبر ٨٢؍٨٣۔