۲۷۴۲ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا الْحِمَّانِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیْدٍ‘ عَنْ أَبِیْ غَالِبٍ‘ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْمُ عِنْدَ رَأْسِ الرَّجُلِ‘ وَعَجِیْزَۃِ الْمَرْأَۃِ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَبَیَّنَ أَنَسٌ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْمُ مِنَ الرَّجُلِ‘ عِنْدَ رَأْسِہٖ وَمِنَ الْمَرْأَۃِ مِنْ وَسَطِہَا‘ عَلٰی مَا فِیْ حَدِیْثِ سَمُرَۃَ‘ فَوَافَقَ حَدِیْثَ سَمُرَۃَ فِیْ حُکْمِ الْقِیَامِ مِنَ الْمَرْأَۃِ فِی الصَّلَاۃِ عَلَیْہَا کَیْفَ ہُوَ‘ وَزَادَ عَلَیْہِ حُکْمَ الرَّجُلِ فِی الْقِیَامِ مِنْہُ لِلصَّلَاۃِ عَلَیْہِ‘ فَہُوَ أَوْلٰی مِنْ حَدِیْثِ سَمُرَۃَ .وَقَدْ قَالَ بِھٰذَا الْقَوْلِ‘ أَبُوْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہُ فِیْمَا حَدَّثَنِیْ بِہِ ابْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ‘ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِیْ مَالِکٍ‘ عَنْ أَبِیْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہُ .وَأَمَّا قَوْلُہُ الْمَشْہُوْرُ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ‘ فَمِثْلُ قَوْلِ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمَا اللّٰہُ۔
٢٧٤٢: ابو غالب نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آدمی کے لیے سر کے پاس اور عورت کے سرین کے برابر کھڑے ہوتے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں حضرت انس (رض) نے اس روایت میں بیان کردیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرد کے پاس کھڑے ہوتے اور عورت کے لیے قد کے درمیان میں جیسا کہ سمرہ (رض) کی روایت میں ہے۔ پس یہ روایت سمرہ والی روایت کے فوافق ہے کہ عورت کی نماز جنازہ کے وقت کہاں کھڑے ہوں اور اس میں مرد پر نماز جنازہ کے وقت قیام کا اضافہ ہے۔ پس یہ عمرہ (رض) کی روایت سے اولیٰ ہے اور ابی عمران کے بقول یہ امام ابو یوسف (رح) کا ملک ہے۔ اور مجھے یہ محمد بن شجاع نے حسن بن ابی مالک کی وساطت سے امام ابو یوسف (رح) سے بیان کیا ہے۔ البتہ ان کا مشہور قول تو امام ابوحنیفہ ‘ محمد جواب کے قول کے مطابق ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الجنائز باب ٥٣‘ ٣١٩٤۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت انس (رض) نے اس روایت میں یہ بتلا دیا کہ مرد کے لیے سر کے پاس آپ کھڑے ہوتے اور عورت کے لیے درمیان میں جیسا کہ حدیث سمرہ (رض) میں ہے۔ گویا عورت کے سلسلہ میں تو دونوں روایات کا حکم ایک دوسرے کی روایت کے موافق ثابت ہوگیا البتہ انس (رض) کی روایت میں مرد کے سلسلہ میں اضافہ ہے پس یہ روایت سمرہ کی روایت سے اولیٰ ہے اور امام ابو یوسف (رح) کا قول بھی حسن بن ابی مالک کے بیان کے مطابق یہی ہے۔ البتہ ان کا مشہور قول امام ابوحنیفہ (رح) اور محمد (رح) کے قول کے مطابق ہے جیسا کہ اس اثر میں ملاحظہ کریں۔