۲۷۴۴ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِیٍّ‘ قَالَ : ثَنَا شَرِیْکُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغِیْرَۃَ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ‘ قَالَ : یَقُوْمُ الرَّجُلُ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَی الْجَنَازَۃِ عِنْدَ صَدْرِہَا .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَحَبُّ إِلَیْنَا لِمَا قَدْ شَدَّہٗ مِنَ الْآثَارِ الَّتِیْ رَوَیْنَاہَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٢٧٤٤: شریک بن عبداللہ بن مغیرہ نے ابراہیم (رح) سے نقل کیا کہ امام جنازہ میں میت کے سینہ کے برابر کھڑا ہو۔ حضرت ابو جعفر (رح) نے فرمایا ۔ پہلا قول ہمیں پسند ہے اس لیے اس کی تائید میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آثار وارد ہوتے ہیں۔
طحاوی (رح) کی ترجیح :
پہلا قول ہمارے نزدیک اولیٰ اور اعلیٰ ہے کیونکہ آثار روایات کے لحاظ سے وہ زیادہ پختہ ہے (البتہ اگر جنازے زیادہ ہوجائیں تو امام کے قریب افضل میت کو کیا جائے اور متعدد کو ایک بار پڑھا جائے یا الگ الگ پڑھا جائے ہر دو درست ہیں) ۔
نوٹ : اس باب میں بھی نظر طحاوی (رح) نہیں ہے اور یہاں بھی عام ترتیب کے خلاف راجح قول کو پہلے ذکر کیا حالانکہ عام طور پر صاحب کتاب فریق مرجوح کو پہلے اور آخر میں راجح کو ذکر کرتے ہیں اس باب میں بھی اختلاف راجح مرجوح سے زائد نہیں۔