۲۷۴۷ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ عُمَرَ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ‘ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَۃَ‘ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ أَمَرَتْ بِسَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ أَنْ یُّمَرَّ بِہٖ فِی الْمَسْجِدِ‘ ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَ حَدِیْثِہِ عَنْ یَعْقُوْبَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا الْحَدِیْثِ‘ فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ بِالصَّلَاۃِ عَلَی الْجَنَازَۃِ فِی الْمَسَاجِدِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا بِمَا۔
٢٧٤٧: عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ عائشہ (رض) نے حکم فرمایا کہ سعد بن ابی وقاص (رض) کا جنازہ مسجد میں لایا جائے پھر یعقوب راوی جیسی روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں ایک جماعت علماء نے اس روایت کو اختیار کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ مسجد میں نماز جنازہ پر ہے لینے میں کچھ حرج نہیں انھوں نے اس سلسلہ میں مندرجہ روایات سے استدلال کیا ۔
تخریج : اخرجۃ الاربعۃ۔
حاصل روایات : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں جنازے پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں ورنہ عائشہ (رض) مسجد میں پڑھنے کا حکم نہ دیتیں نیز انھوں نے سہیل بن بیضاء کے جنازے کا حوالہ دیا جو خود مستقل ثبوت ہے۔
اور انھوں نے یہ دلیل بھی دی ہے۔
مؤقف فریق ثانی : مسجد میں نماز جنازہ ہر طور مکروہ ہے جیسا کہ ان روایات سے ثابت ہوتا ہے۔