۲۷۵۴ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا عِیْسَی بْنُ اِبْرَاہِیْمَ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ (یَحْیَی بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ التَّیْمِیِّ قَالَ : صَلَّیْتُ مَعَ عِیْسٰی مَوْلٰی حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ‘ عَلٰی جَنَازَۃٍ‘ فَکَبَّرَ عَلَیْہَا خَمْسًا‘ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیْنَا فَقَالَ : مَا وَہِمْتُ وَلَا نَسِیْتُ، وَلٰـکِنِّیْ کَبَّرْت کَمَا کَبَّرَ مَوْلَایَ‘ وَوَلِیُّ نِعْمَتِیْ‘ یَعْنِیْ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ‘ صَلّٰی عَلٰی جَنَازَۃٍ فَکَبَّرَ عَلَیْہَا خَمْسًا‘ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیْنَا فَقَالَ : مَا وَہِمْتُ وَلَا نَسِیْتُ، وَلٰـکِنِّیْ کَبَّرْت کَمَا کَبَّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ التَّکْبِیْرَ عَلَی الْجَنَائِزِ خَمْسًا‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : بَلْ ہِیَ أَرْبَعٌ‘ لَا یَنْبَغِیْ أَنْ یُّزَادَ عَلٰی ذٰلِکَ‘ وَلَا یَنْقُصَ مِنْہُ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ۔
٢٧٥٤: یحییٰ بن عبداللہ تیمی کہتے ہیں کہ میں حذیفہ بن یمان کے مولیٰ عیسیٰ کے ساتھ ایک جنازہ پر نماز پڑھی تو عیسیٰ نے اس پر پانچ تکبیرات کہیں پھر ہماری طرف توجہ کر کے فرمایا نہ مجھے وہم ہوا اور نہ میں بھولا بلکہ میں اسی طرح تکبیرات کہہ رہا ہوں جیسے میرے مولیٰ و محسن حذیفہ بن یمان نے ایک جنازہ کی نماز ادا کی اور اس پر پانچ تکبیرات کہیں پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا نہ مجھے وہم ہوا اور نہ میں بھولا بلکہ میں نے اسی طرح تکبیرات کہی ہیں جیسا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہی تھیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ جنازے کی تکبیرات پانچ ہیں انھوں نے ان روایات سے دلیل حاصل کی ہے۔ مگر دیگر علماء نے ان کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ تکبیرات چار ہیں ان سے کمی اور اضافہ درست نہیں ۔ انھوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے۔
تخریج : ابن ابی شیبہ فی الجنائز ٣؍٣٠٣۔
حاصل روایات : ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنازہ کی پانچ تکبیرات ہیں جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ وتابعین سے ثابت ہیں پس اتنی کہی جائیں گی۔
مؤقف فریق ثانی : جنازے کی تکبیرات چار ہیں اس سے زیادہ نہ کہی جائیں۔ مندرجہ ذیل روایات اس کو ثابت کرتی ہیں۔