۲۷۶۴ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ إِسْحَاقَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ‘ قَالَ : ثَنَا شَرِیْکٌ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ الْہَجَرِیِّ‘ قَالَ : (صَلّٰی بِنَا ابْنُ أَبِیْ أَوْفٰی عَلَی ابْنَۃٍ لَہٗ فَکَبَّرَ عَلَیْہَا أَرْبَعًا‘ ثُمَّ وَقَفَ فَانْتَظَرْنَا بَعْدَ الرَّابِعَۃِ تَسْلِیْمَہٗ، حَتّٰی ظَنَنَّا أَنَّہٗ سَیُکَبِّرُ الْخَامِسَۃَ‘ ثُمَّ سَلَّمَ‘ ثُمَّ قَالَ : أَرَاکُمْ ظَنَنْتُمْ أَنِّیْ سَأُکَبِّرُ الْخَامِسَۃَ‘ وَلَمْ أَکُنْ لِأَفْعَل ذٰلِکَ‘ وَہٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْعَلُ) .
٢٧٦٤: ابراہیم الہجری کہتے ہیں کہ ہمیں ابن ابی اوفیٰ (رض) نے اپنی ایک بیٹی کی نماز جنازہ پڑھائی تو اس پر انھوں نے چار تکبیرات کہیں پھر رک گئے تو ہم نے چوتھی تکبیر کے بعد سلام کا انتظار کیا یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان گزرا کہ وہ پانچویں تکبیر کہیں گے پھر انھوں نے سلام پھیرا پھر کہنے لگے میرا خیال ہے کہ تم نے گمان کیا کہ میں پانچویں تکبیر کہوں گا مگر میں ایسا کرنے والا نہیں اس لیے کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح کرتے پایا ہے۔
تخریج : ابن ماجہ فی الجنائز باب ٢٤‘ نمبر ١٥٠٣۔