۲۷۸۷ : مَا حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا مُؤَمَّلٌ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِیْقٍ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ‘ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ جَمَعَ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ فَسَأَلَہُمْ عَنِ التَّکْبِیْرِ عَلَی الْجَنَازَۃِ‘ فَأَخْبَرَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ بِمَا رَأَی‘ وَبِمَا سَمِعَ‘ فَجَمَعَہُمْ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلٰی أَرْبَعِ تَکْبِیْرَاتٍ کَأَطْوَلِ الصَّلَوَاتِ‘ صَلَاۃِ الظُّہْرِ .
٢٧٨٧: ابو وائل کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جمع کر کے پوچھا کہ جنازے کی تکبیرات کتنی ہیں ہر ایک نے جو سنا تھا اور دیکھا تھا بتلا دیا تو عمر (رض) نے ان کو چار تکبیرات پر جمع کردیا جو طویل پڑھی جانے والی ظہر کے برابر طویل ہوں گی۔ یہ روایت اس کے خلاف ہے جو رائے حضرت عمر اور علی (رض) اہل بدر کے سلسلہ میں رکھتے تھے کہ ان پر چار سے زیادہ تکبیرات کہی جا ہیں۔