hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2800

.

الطحاوي

2800
Al Tahawi
۲۸۰۰ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ‘ قَالَ : ثَنَا إِسْرَائِیْلُ‘ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَوْہَبٍ‘ قَالَ : صَلَّیْتُ خَلْفَ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلٰی جَنَائِزَ‘ مِنْ رِجَالٍ وَنِسَائٍ ‘ فَسَوّٰی بَیْنَہُمْ وَکَبَّرَ أَرْبَعًا .فَہٰؤُلَآئِ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَذْکُوْرُوْنَ فِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ‘ قَدْ کَانُوْا یُکَبِّرُوْنَ فِیْ صَلَاتِہِمْ عَلٰی جَنَائِزِہِمْ أَرْبَعَ تَکْبِیْرَاتٍ‘ ثُمَّ لَا یُنْکِرُ ذٰلِکَ عَلَیْہِمْ غَیْرُہُمْ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ ذٰلِکَ ہُوَ حُکْمُ التَّکْبِیْرِ فِی الصَّلَاۃِ عَلَی الْجَنَائِزِ‘ وَأَنَّ مَا زَادَ عَلَی التَّکْبِیْرَاتِ الْأَرْبَعِ‘ فَإِنَّمَا کَانَ لِمَعْنًی خَاصٍّ‘ خُصَّ بِہٖ بَعْضُ الْمَوْتٰی‘ مِمَّنْ ذَکَرْنَا‘ مِنْ أَہْلِ بَدْرٍ‘ عَلٰی سَائِرِ النَّاسِ .فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا أَنَّ التَّکْبِیْرَ عَلَی الْجَنَازَۃِ أَرْبَعًا عَلَی النَّاسِ جَمِیْعًا‘ مِنْ بَعْدِ أَہْلِ بَدْرٍ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ .وَکَانَ مَذْہَبُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَسُفْیَانَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ رَحِمَہُمَا اللّٰہُ‘ فِی التَّکْبِیْرِ عَلَی الْجَنَائِزِ أَیْضًا مَا ذَکَرْنَا .وَقَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ أَیْضًا‘ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ .
٢٨٠٠: عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) کے پیچھے کئی لوگوں کے جنازے اکٹھے ادا کئے جن میں مرد اور عورتیں شامل تھیں انھوں نے ان کو برابر رکھا اور چار تکبیرات کہیں۔ یہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جن کا تذکرہ ان آثار میں کیا گیا ۔ وہ اپنی نماز جنازہ میں چار تکبیرات کہتے تھے ۔ پھر اس سلسلہ میں ان پر کوئی نکیر نہ کرتا تھا۔ پس اس سے ثبوت مل گیا کہ جنازے کی تکبیرات کا یہی حکم تھا اور جو چار سے زائد تکبیرات ہیں ان کی خاص وجہ ہے جس کے لیے بعض مرنے والے مخصوص ہیں جن کا ہم نے اہل بدر میں سے تذکرہ کیا بقیہ لوگوں کی بجائے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ جنازہ کی تکبیرات چار ہیں جو تمام لوگوں کے لیے لازم ہیں علاوہ اہل بدر کے جب تک دنیا باقی ہے۔ امام ابوحنیفہ ‘ سفیان ابو یوسف ‘ محمد بن الحسن رحمہم اللہ کا مذہب تکبیرات میں یہی ہے اور امام محمد بن حنفیہ (رح) سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
حاصل روایات : یہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازوں میں چار تکبیرات ہی کہہ رہے ہیں اور دوسرا کوئی تنکیر و تنقید بھی نہیں کررہا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جنازہ کی تکبیرات کا یہی حکم ہے اور جو چار سے زائد منقول ہیں اس کی خاص وجہ ہے اور وہ اہل بدر کی خصوصیت ہے اب اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ قیامت تک آنے والے سب لوگوں کے لیے سوائے بدر کے چار تکبیرات ہی کہی جائیں گی۔
یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد بن الحسن رحمہم اللہ کا مذہب ہے۔