۲۸۰۴ : فَإِنَّہٗ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِیْ حَازِمٍ‘ وَسَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْجُمَحِیُّ‘ عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ .قَالَ سَعِیْدٌ فِیْ حَدِیْثِہٖ : سَمِعْتُ سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ .وَقَالَ ابْنُ أَبِیْ حَازِمٍ (عَنْ سَہْلٍ إِنَّہٗ سُئِلَ عَنْ وَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أُحُدٍ بِأَیِّ شَیْئٍ دُوْوِیَ ؟ قَالَ سَہْلٌ : کُسِرَتَ الْبَیْضَۃُ عَلٰی رَأْسِہٖ‘ وَکُسِرَتْ رُبَاعِیَتُہٗ، وَجُرِحَ وَجْہُہٗ‘ فَکَانَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا تَغْسِلُہٗ، وَکَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَسْکُبُ الْمَائَ بِالْمِجَنِّ .فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا‘ أَنَّ الْمَائَ لَا یَزِیْدُ الدَّمَ إِلَّا کَثْرَۃً‘ أَخَذَتْ قِطْعَۃَ حَصِیْرٍ فَأَحْرَقَتْہَا وَأَلْصَقَتْہَا عَلٰی جُرْحِہٖ فَاسْتَمْسَکَ الدَّمُ) .یَخْتَلِفُ لَفْظُ ابْنِ أَبِیْ حَازِمٍ‘ وَسَعِیْدٍ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ‘ وَالْمَعْنٰی وَاحِدٌ .
٢٨٠٤: ابو حازم نے سعید سے روایت کی ہے کہ میں نے سہل بن سعد سے سنا ہے ابن ابی حازم نے سہل سے نقل کیا سہل سے احد کے دن جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کے زخم کے متعلق پوچھا گیا کہ اس کا کس طرح علاج کیا گیا ؟ تو سہل نے کہا آپ کے سر کا خود ٹوٹ گیا اور سامنے والا دانت بھی ٹوٹا۔ اور چہرہ مبارک (خود کی کڑیوں کے گھسنے سے) زخمی ہوگیا حضرت فاطمہ (رض) زخم کو دھو رہیں تھیں اور علی (رض) ڈھال سے پانی ڈال رہے تھے۔ جب فاطمہ (رض) نے دیکھا کہ پانی سے خون گھٹنے کی بجائے بڑھ رہا ہے تو چٹائی کا ٹکڑا لے کر اس کو چلایا اور اس کی راکھ زخم پر چمٹا دی جس سے خون رک گیا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے مذکورہ الصدر روایت کو اختیار کر کے کہا کہ معرکہ میں شہید ہونے والے پر نماز جنازہ نہ پڑھی جائے گی اور نہ اس پر جو میدان جنگ میں زخمی ہو اور اپنے مقام کی طرف انتقال سے پہلے مرجائے جیسا کہ اسے غسل نہیں دیا جاتا اور یہ اہل مدینہ کا قول ہے۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا بلکہ شہید پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور ان کی اپنے مخالفین کے خلاف دلیل یہ ہے۔ کہ جابر (رض) والی مذکورہ روایت کا جملہ ” ان النبی لم یصل علیھم “ اس کا معنیٰ ممکن ہے یہ ہو کہ آپ نے ان پر نماز جنازہ نہ پڑھی جائے جیسا کہ ان کے ہاں یہ طریقہ تھا کہ ان کو غسل نہ دیا جاتا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے خود ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی بلکہ دوسری نے نماز جنازہ پڑھی کیونکہ آپ کو زخموں کی وجہ سے سخت تکلیف تھی آپ کا باعیہ دانت ٹوٹ گیا اور مشرکین کی طرف سے سخت ایذاء پہنچی تھی۔ ابن ابی حازم اور سعید کے الفاظ تو مخلتف ہیں مگر مفہوم ایک ہے۔
تخریج : بخاری فی المغازی باب ٢٦‘ والجہاد باب ٨٠‘ ٨٥‘ والطب باب ٢٧‘ مسلم فی الجہاد نمبر ١٠١‘ ترمذی فی تفسیر سورة نمبر ٣‘ باب ١٠‘ ١١‘ ابن ماجہ فی الطب باب ١٥‘ والفتن باب ٢٣‘ مسند احمد ١؍٣١‘ ٣٣‘ ٩٩‘ ٢٥٣‘ ٢٨٨۔
حاصل روایات : ابو حازم اور سعید کے الفاظ تو مختلف ہیں مگر معنی و مفہوم ایک ہے۔
لغات : البیضۃ۔ خود۔ رباعیۃ۔ سامنے کے دانت۔ المجن۔ ڈھال۔