۲۸۱۲ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یُوْنُسَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ‘ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ زِیَادٍ‘ عَنْ مِقْسَمٍ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : (أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أُحُدٍ بِالْقَتْلٰی‘ فَجَعَلَ یُصَلِّیْ عَلَیْہِمْ‘ فَیُوْضَعُ تِسْعَۃٌ وَحَمْزَۃُ‘ فَیُکَبِّرُ عَلَیْہِمْ سَبْعَ تَکْبِیْرَاتٍ‘ ثُمَّ یُرْفَعُوْنَ وَیُتْرَکُ حَمْزَۃُ‘ ثُمَّ یُجَائُ بِتِسْعَۃٍ‘ فَیُکَبِّرُ عَلَیْہِمْ سَبْعًا حَتّٰی فَرَغَ عَنْہُمْ) .
٢٨١٢: مقسم نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا مقتولین کو لایا جائے آپ ان پر نماز پڑھنے لگے حمزہ (رض) کا جسد پڑا تھا نو اور لائے جاتے اور ان پر سات تکبیرات کہی جاتی تھیں پھر ان کو اٹھا لیا جاتا اور حمزہ (رض) کو وہیں چھوڑ دیا جاتا پھر اور نو لائے جاتے اور ان پر تکبیرات کہی جاتیں یہاں تک کہ آپ جنازے سے فارغ ہوگئے۔