۲۸۱۴ : حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ إِدْرِیْسَ‘ قَالَ : ثَنَا آدَم بْنُ إِیَاسٍ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مَالِکٍ الْغِفَارِیَّ‘ قَالَ : (کَانَ قَتْلَی أُحُدٍ یُؤْتَیْ بِتِسْعَۃٍ وَعَاشِرُہُمْ حَمْزَۃُ‘ فَیُصَلِّیْ عَلَیْہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ ثُمَّ یُحْمَلُوْنَ‘ ثُمَّ یُؤْتَیْ بِتِسْعَۃٍ‘ فَیُصَلِّیْ عَلَیْہِمْ وَحَمْزَۃُ مَکَانَہٗ، حَتّٰی صَلّٰی عَلَیْہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) .وَقَدْ رُوِیَ أَیْضًا عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ‘ (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلّٰی عَلٰی قَتْلٰی أُحُدٍ‘ بَعْدَ مَقْتَلِہِمْ بِثَمَانِ سِنِیْنَ) .
٢٨١٤: حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے ابو مالک غفاری (رض) سے سنا فرماتے تھے کہ مقتولین احد میں نو نو کر لایا جاتا اور ان میں دسویں حمزہ (رض) تھے ان پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نمازِ جنازہ پڑھتے پھر انھیں اٹھا لیا جاتا پھر نو اور لائے جاتے آپ ان پر اور حمزہ (رض) جو اپنی جگہ پڑے تھے نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام پر نماز جنازہ پڑھی اور عقبہ بن عامر کی روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقتولین احد پر آٹھ سال بعد نماز جنازہ پڑھی۔
تخریج : بخاری فی المغازی باب ١٧‘ ابو داؤد فی الجنائز باب ٧٠‘ نمبر ٣٢٢٤۔
عقبہ بن عامر (رض) کی روایت بھی اس کی موید ہے۔ ملاحظہ ہو۔