۲۸۱۸ : وَقَدْ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا الْخَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ الْفَوْزِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : سَمِعْتُ مَکْحُوْلًا یَسْأَلُ عُبَادَۃَ بْنِ أَوْفَی النُّمَیْرِیَّ عَنِ الشُّہَدَائِ یُّصَلِّیْ عَلَیْہِمْ‘ فَقَالَ عُبَادَۃَ : نَعَمْ .فَھٰذَا عُبَادَۃَ بْنُ أَوْفٰی یَقُوْلُ ھٰذَا وَمَغَازِیْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا کَانَ جُلُّہَا ہُنَاکَ نَحْوَ الشَّامِ‘ فَلَمْ یَکُنْ یَخْفٰی عَلٰی أَہْلِہٖ مَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ بِشُہَدَائِہِمْ مِنَ الْغُسْلِ وَالصَّلَاۃِ وَغَیْرِ ذٰلِکَ .
٢٨١٨: مکحول نے عبادہ بن اوفیٰ (رض) سے شہداء کی نماز کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا نماز پڑھی جائے گی۔ یہ حضرت عبادہ (رض) کا قول ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بڑی بڑی جنگیں ملک شام کی جانب لڑی گئیں ۔ وہاں کے ساکنین پر یہ بات مخفی نہ تھی کہ وہ شہداء کے کفن دفن ‘ غسل کے متعلق کیا عمل کرتے تھے۔
حاصل روایات : یہ عبادہ (رض) وہ صحابی ہیں جو شام میں سکونت پذیر ہوگئے اور وہاں کی جنگوں میں کثرت سے شرکت کی ان پر شہداء کا حال کس طرح مخفی رہ سکتا ہے پس ان کا فتویٰ مشاہداتی وزن بھی رکھتا ہے۔ واللہ اعلم۔
حاصل کلام : اس باب میں شہداء کی نماز جنازہ کے ثبوت میں چار صحابہ سے روایات پیش کی گئیں ابن عباس ابن زبیر ابو مالک غفاری عبادہ بن اوفیٰ ] اور ایک محاکمہ جس سے روایات کا جواب دیا گیا اور نظر طحاوی (رح) سے باب کو مکمل کیا خصوصی عادت کے مطابق ایک صحابی کے فتویٰ پر باب کو ختم کیا یہ فتویٰ درحقیقت نظر کی تائید کے لیے لایا گیا ہے۔
نمبر 1: حضرت سعید بن جبیر (رض) وغیرہ نابالغ بچوں پر نماز کو مشروع قرار نہیں دیتے۔
نمبر 2: تمام ائمہ و جمہور فقہاء کے ہاں نابالغ بچوں کی نماز تو بالغوں کی طرح لازم ہے البتہ شافعیہ و مالکیہ کے ہاں بچے کا چیخ مارنا ضروری ہے تب نماز پڑھی جائے گی ائمہ احناف و شوافع صرف زندہ پیدا ہونے پر اکتفاء قرار دیتے ہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلائل : نابالغ بچے پر چنداں نماز جنازہ کی ضرورت نہیں دلائل مندرجہ ذیل روایات ہیں۔