hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2855

.

الطحاوي

2855
Al Tahawi
۲۸۵۵ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِیُّ‘ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ‘ أَوْ قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ مِثْلَہٗ .وَزَادَ (ہُوَ الرَّجُلُ الَّذِیْ کَانَ یَرْفَعُ صَوْتَہٗ بِالْقُرْآنِ) .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ اِبَاحَۃُ الدَّفْنِ فِی اللَّیْلِ .وَیَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ النَّہْیُ الَّذِیْ ذَکَرْنَا فِی الْبَابِ الْأَوَّلِ‘ لَیْسَ مِنْ طَرِیْقِ کَرَاہَۃِ الدَّفْنِ بِاللَّیْلِ‘ وَلٰـکِنْ لِاِرَادَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُصَلِّیَ عَلٰی جَمِیْعِ مَوْتَی الْمُسْلِمِیْنَ‘ لِمَا یَکُوْنُ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ مِنَ الْفَضْلِ وَالْخَیْرِ بِصَلَاتِہِ عَلَیْہِمْ .
٢٨٥٥: عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ مجھے جابر بن عبداللہ نے بتلایا یا میں نے جابر سے سنا ہے پھر روایت اسی طرح نقل کی البتہ یہ اضافہ ہے کہ وہ وہی شخص تھا جو بلند آواز سے قرآن پڑھتا تھا۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رات میں دفن مباح ہے یہ کہنا ممکن ہے کہ اول میں مذکورہ روایت میں رات کو دفن کی کراہت نہ ہو۔ بلکہ مقصد یہ ہو مسلمان مرنے والوں پر نماز جنازہ پڑھنے کا ارادہ لوگوں کے سامنے ظاہر کیا جائے کیونکہ آپ کی نماز جنازہ ان کے لیے اضافہ خیر و فضیلت کا باعث تھی۔
جواب روایت (١): دفن کی ممانعت والی روایت میں دفن کی ممانعت کراہت تدفین کی وجہ سے نہیں بلکہ آپ کی طبیعت میں یہ بات تھی کہ تمام اموات کی نماز جنازہ آپ خود ادا فرمائیں کیونکہ اس میں جو خیروبرکت ہے وہ اور کسی کی نماز جنازہ میں نہیں ہے جیسا فرمایا ان صلاتک سکن لہم آپ کی دعا ان کے سکون و اطمینان کا باعث ہے۔